دنیا میں توانائی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک


توانائی کی بڑھتی ضروریات نے انسان کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اس کو روایتی ذرائع سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نئے طریقے کی تلاش بھی جاری رکھے ۔ یہی وجہ ہے کہ شمسی توانائی سے لے کر غیر روایتی توانائی کے تما ذرائع کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ اسی سوچ کے تحت قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال کو بھی اب زیادہ سے زیادہ ایک پائیدار مستقبل کے لیے انتہائی موثر حکمت عملیوں میں سے ایک خیال کیا جانے لگا ہے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا توانائی پیدا اور استعمال کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین تیزی سے ماحول دوست اور قابل تجدید ذرائع توانائی پر منتقل ہونے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ چین توانائی کے استعمال کے طریقوں میں اصلاحات ، صاف اور متنوع توانائی کی فراہمی کے نظام کی تشکیل ، جدت پر مبنی توانائی کی حکمت عملی کو نافذ کرنے ، توانائی کے نظام میں اصلاحات کو آگے بڑھانے ، اور بین الاقوامی توانائی کے تعاون کو بڑھانے کے لئے تمام محاذوں پر کام کر رہا ہے۔

حالیہ دنوں چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات نے ایک وائٹ پیپر بعنوان “نئے دور میں چین کی توانائی کی ترقی” جاری کیا۔ جس کے مطابق چین توانائی کے انقلاب کو آگے بڑھارہا ہے ، چین میں توانائی کی پیداوار اور استعمال کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں اور توانائی کی ترقی کے حوالے سے تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ توانائی کی پیداوار اور کھپت کے ڈھانچے کو مستقل طور پر بہتر بنایا گیا ہے ، توانائی کے استعمال کی استعداد کار میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے ، توانائی کی سلامتی کی صلاحیتوں میں اضافہ جاری ہے جس سے اعلی معیار کی معاشی ترقی ، غربت کے خاتمےاور ایک خوشحال معاشرے کی تعمیر کیلئے مضبوط بنیاد قائم کی گئی ہے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی خطرات سے متعلق چیلنجوں سمیت دیگر بڑھتے ہوئے شدید عالمی مسائل کے تناظر میں ، چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا تصور قائم کیا ہے ، معاشی اور معاشرتی ترقی کی جامع “گرین تبدیلیوں” کو فروغ دیا ہے ۔ اندرون ملک شفاف توانائی اور کم کاربن ترقی کو فروغ دیتے ہوئے چین مثبت طورپر عالمی توانائی کی گورننس میں شریک رہا ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر عالمی توانائی کی پائیدار ترقی میں تیزی کے لیے نئے طریقے تلاش کیے ہیں۔ نئے دور میں چین کی توانائی کی ترقی چینی معیشت اور سماج کی پائیدار اور صحت مند ترقی کے لئے مضبوط حمایت فراہم کرتی ہے ، اور عالمی توانائی کی سلامتی کو برقرار رکھنے ، عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے ردعمل ، اور عالمی معاشی نمو کو فروغ دینے میں بھی مثبت شراکت فراہم کرتی ہے۔

وائٹ پیپر میں سات موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے جن میں: نئے دور میں اعلیٰ معیار کی توانائی کی ترقی ، توانائی کی پیداوار میں حاصل کی جانے والی تاریخی کامیابیاں ، توانائی کی کھپت میں اصلاحات کے لئے کی جانے والی ہمہ جہت کوششیں ، صاف اور متنوع توانائی کی فراہمی کے نظام کی تعمیر کی ترقی کے بنیادی محرکات ، تمام شعبوں میں توانائی کے نظام کی گہری اصلاح ، اور توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے بھرپور کوشسوں کو فروغ دینا شامل ہیں۔

وائٹ پیپر کے مطابق چین نان فوسل توانائی کے فروغ کو اہمیت دے رہا ہے اور زیادہ کاربن کے اخراج والی توانائی سے کم کاربن کے اخراج والی توانائی پر منتقلی کے لئے بھر پور جدو جہد کر رہا ہے۔ وائٹ پیپر کے مطابق چین شمسی توانائی ، ونڈ پاور ، اور پن بجلی کے ساتھ ساتھ محفوظ جوہری توانائی کے استعمال کے لئے سہولیات فراہم کررہا ہے جبکہ بائیو ماس ، جیوتھرمل اور سمندری توانائی کی ترقی کو مقامی حالات کے مطابق آگے بڑھانے کے کام کررہا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قابل تجدید توانائی کے مجموعی طور پر استعمال کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے ، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی قومی اوسط کھپت کی شرح 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے ، شمسی فوٹو وولٹک بجلی کے استعمال میں 98 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے ، اور بڑے دریا کے طاسوں میں پانی کی توانائی 2019 میں 96 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

چین ماحول میں کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے بھی کوشاں ہے سال 2019 میں کاربن کا اخراج سال 2005 کے مقابلے میں 48.1 فیصد کم ہوا تھا۔ جبکہ سال 2005 سے سال 2020 کے دوران کاربن کے اخراج میں کمی کا ہدف 40 تا 45 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ایک سال قبل ہی واضح اور شاندار کامیابی حاصل کر لی گئی۔

ہم جانتے ہیں توانائی کا شمار اب انسان کی بنیادی ضرورت کی چیزوں میں ہونے لگا ہے۔ اگر ایک دن بجلی گُل ہوجائے تو بجلی کی عدم موجودگی انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ توانائی کی اسی اہمیت کے پیش نظر اب بجا طور پر کہا جانے لگا ہے کہ توانائی کی جس قدر اہمیت آج ہے، شاید پوری انسانی تاریخ میں اس کی یہ اہمیت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں تحقیق بھی انتہائی اہمیت کی حامل چیز بن کر ابھری ہے۔ چین اس شعبے میں نہ صرف خود ترقی کررہا ہے بلکہ اس کے ثمرات دوست ممالک تک بھی منتقل کررہا ہے۔ پاکستان میں چین کی مدد سے توانائی کے بحران پر خاطر خواہ انداز میں قابو پا لیا گیا ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ “03009194327” پر بھیج دیں.