رواں برس پاکستان نے کتنا قرض لیا اور کتنا واپس کیا، تفصیلات سامنے آگئیں


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے رواں برس بیرونی قرضوں کی مد میں 10.4 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے جبکہ مجموعی طور پر10.7 ارب ڈالر وصول کیے جس میں سے 97 فیصد سے زائد قرضے اور تین فیصد گرانٹس شامل ہیں۔

اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حکومت نے رواں سال 2020 میں مجموعی طور پر10.4 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی ہیں جس میں 8.5 ارب قرض کی رقم جبکہ1.9 فیصد سود کی مد میں کی گئی ادائیگیاں شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے قرضوں کی ادائیگیوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کو1005 ملین ڈالر، جاپان کو 228 ملین ڈالر، چین کو 7.4 ملین ڈالر قرضوں کی مد میں واپس کیے ہیں جبکہ دیگر بین الاقوامی کمرشل بینکوں کو 4900 ملین ڈالر کے قرضہ جات کی واپسی کی گئی۔

پاکستان کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 6.5 ارب ڈالر وصول ہوئے ہیں، جبکہ ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے3.4 ارب ڈالر کا قرض بھی حاصل کیا ہے، اس طرح سال 2020 میں حکومت کو 10.7 ارب ڈالر ملے جس میں تین فیصد گرانٹس بھی شامل ہیں۔

حاصل ہونے والی رقم کا 53 فیصد حصہ ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشین انفراسٹرکچر بینک، ورلڈ بینک اور اسلام ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے فراہم کی گئی، جو ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر استعمال کی گئی جبکہ32 فیصد بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے حاصل کیا گیا جو بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے استعمال ہوا۔