ریپ ملزمان کے اعضا کاٹ کر نشان عبرت بنایا جائے: بشریٰ انصاری نے مولانا طارق جمیل سے کیا کہا ؟

0
120

پاکستان کی لیجنڈ اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی موٹروے گینگ ریپ اور ریپ کے ملزمان کو سزا       دینے کے حوالے سے اپنا موقف بیان کردیا, انسٹاگرام پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ ریپ ملزمان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ وہ باقی زندگی تڑپتے رہیں اور نشان عبرت بھی بنیں۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ پھانسی ایک چھوٹی سزا ہے اور ریپ ملزمان کے ہاتھ پاؤں سمیت وہ اعضا کاٹ دیے جائیں جن سے وہ بچوں اور خواتین کے روح تک کو تڑپا دیتے ہیں, ایسی عبرت ناک سزا کہ باقی ملزمان انہیں دیکھ کر سبق سیکھیں۔

 

 

 

View this post on Instagram

 

Thinking wat to ask n what to think..just want the rapist to be alive..not to be hanged..they should live the rest of their lives , with the pain n helplessness with broken legs broken arms and with out the organs which destroy women and their souls..They should be alive to witness the hatred and pain of dying everyday like the rape victims and acid burnet women..like those parents who die every nite n every day..after their innocent boys n baby girls are brutal death..I demand and strongly demand to.cut and throw their sickness tools …and make them.impotent..n break their legs n hands so that they just become a symbol for all others who are going to do this today tomorrow or day after.Because they will keep doing this until they don’t see these results.PHANSI IS JUST A FEW MINUTES PUNISHMENT.BUT THEY SHUOLD BE A REAL “IBRAT” KA NISHAN..BUSSS BIHAT HOGAYA…BUSSSSSSS…Islam ki boat karty hain to practical banain.aankh k badly ankh.. to izzat or zillat k badly zillat…pl maulana Tariq Jameel.koi dharna koi ehtejaj ap bhi to Karen…ap ki yahan bohat zuroorat hay..boliayyyyy…please..

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra) on


بشریٰ انصاری کا کہنا ہے کہ ملزمان کے جرائم سے خواتین و بچے اور ان کے والدین ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں، اس لیے ایسا گھناؤنا کام کرنے والوں کو بھی اس طرح کی سزا دی جائے کہ وہ زندہ رہ کر ہر لمحے موت کی زندگی گزاریں۔

بشریٰ انصاری نے مذہب اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور عزت کے بدلے عزت کا فارمولہ اختیار کیا جائے,انہوں نے عالم دین مولانا طارق جمیل کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ریپ واقعات میں ملک و قوم کا ان کے ساتھ کی ضرورت ہے، وہ اس معاملے پر آگے آکر دھرنا دیں اور آواز بلند کریں۔

لاہور موٹروے پر زیادتی کیس کے بعد پورے ملک میں شدید غم و غصہ ہے ہر کوئی احتجاج کر رہا ہے