”زیادتی کی شکارخواتین کاماضی شہرت جیسی بھی ہو،کردارپرانگلیاں اٹھانامناسب نہیں“


پاکستان میں ریپ کیسز اور اسکے بعد متاثرہ خواتین کیلئے پیدا ہونیوالے مسائل کے حوالے سے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے !

سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے ایک تفصیلی فیصلہ دیا ہے ۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک خاتون کا جنسی کردار اور اس کی شہرت جیسی بھی ہو اس کو دوسروں کی طرح قانونی تحفظ حاصل ہے اس کا لائسنس کسی کے پاس نہیں ہے کہ خاتون کی ذاتی زندگی میں صرف اس وجہ سے دخل دے کہ اس کا کردار خراب ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ زیادتی کے کیسز کی تفشیش کرتے وقت خاتون کا کردار زیرِبحث نہیں آنا چائیے۔ بے شک متاثرہ خاتون کے کسی شخص کے ساتھ ماضی میں جنسی تعلقات رہے ہوں یہ بات اہم نہیں ہے۔

فاضل جج کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ کیا ملزم نے متاثرہ خاتون سے ریپ کیا ہے یا نہیں۔ متاثرہ خاتون اگر پہلے ہی virginity کھو چکی ہوں تو اس کے باوجود کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے۔

جسٹس منصور نے کا مزید یہ کہا کہ ریپ کیس کے کرمنل ٹرائل میں، ملزم کا ٹرائل ہونا چائیے نا کہ متاثرہ خاتون کا ٹرائل کیا جائے ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا اب عدالتوں کو متاثرہ خواتین کے لئے Women of loose moral character , Habituated to sex, Non virgin
جیسے نا مناسب لفظوں کا چناؤ بھی ختم کرنا چائیے۔یہ الفاظ اُن خواتین کے بھی نہیں استعمال کرنے چائیے جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ثابت نا کر سکیں۔

فیصلے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی زیادتی کی شکایت لے کر جب کوئی خاتون پولیس کے پاس آتی ہے تو پولیس اس سے اس کے کردار کے متعلق سوالات پوچھنا شروع کر دیتی ہے۔ جو کہ ایک غیر قانونی اور غیر آئنی عمل ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں معاشرے میں موجود سوچ اور رویوں کو تبدیل کرنے پر زور دیا ہے ۔وہی سوچ جو متاثرہ خاتون کو ہی مجرم بنا کر پیش کرتی ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے کئی خواتین خود سے ہونے والی زیادتی کو رپورٹ کرنے اور مقدمہ کرنے سے ڈرتی ہیں ۔ اور جو خواتین رپورٹ کرتی بھی ہیں اُنہیں پراسیکیوشن کی کمزوری اور نا مکمل تحقیقات کی وجہ سے انصاف نہیں مل پاتا ۔

پچھلے سال نومبر میں دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز 11 خواتین سے زیادتی کی جاتی ہے ۔ مگر صرف 41 فیصد کیسز رپورٹ کئے جاتے ہیں ۔ اور اِن میں سے صرف صفر اعشاریہ تین فیصد کو سزائیں ملتی ہیں ۔اُمید کرتے ہیں اس فیصلے کے بعد سماجی رویوں میں تبدیلی آئے گی متاثرہ خواتین جس تکلیف دہ راستے سے گزرتی ہیں وہ بند ہو جائے گا

واضح رہے کہ خواتین سے زیادتی کے بعد انکے لئے پیدا ہونیوالی مشکلات پاکستان سمیت انڈیا کا بہت بڑا مسئلہ ہے، بھارت نے اس مسئلے کو مختلف فلموں کے ذریعے بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انڈیا نے کچھ عرصہ پہلے اس موضوع پر فلم “پنک”بھی بنائی تھی جس میں ایک لڑکی جس کے مردوں سے تعلقات ہوتے ہیں وہ ایک شخص پر زیادتی کا الزام لگاتی ہے۔ وکیل اسے بدکردار ثابت کرنے پر لگ جاتے ہیں ۔

، اس فلم میں لڑکی متعدد مواقعوں پر ہمت ہارجاتی ہے لیکن اسکے وکیل کے دلائل کے سامنے مخالف شخص کے وکلاء بے بس ہوجاتے ہیں اور فیصلہ لڑکی کے حق میں آجاتا ہے۔