سرکاری ملازمت کرنے والے تعلیم یافتہ اغوا کار گروپ سے تفتیش، اہم انکشافات سامنے آگئے


کراچی : رینجرز قلندر ونگ اور اے وی سی سی کے ہاتھوں گرفتارسرکاری ملازمت کرنے والے تعلیم یافتہ اغوا کار گروپ سے تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔

تفصٓیلات کے مطابق حکام کی جانب سے گرفتار سرکاری ملازمت کرنے والے تعلیم یافتہ اغوا کار گروپ سے تفتیش جاری ہے، ملزم نے بتایا گلشن معمار سے اغواء ہونے والے حمزہ کو قریبی رشتے دار نے شارٹ ٹرم اغوا کا منصوبہ بنایا۔

گروہ کے ماسٹرمائنڈ عدنان اختر نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مغوی کی والدہ کو بھی کچھ عرصے پہلے اغوا کیا گیا تھا جس پر فیملی نے پولیس کو بتائے بغیر اغوا کاروں کو خاموشی سے بڑی رقم ادا کی اور خاموشی سادھ لی تھی۔

عدنان اختر کا کہنا تھا کہ گزشتہ واردات کوسوچ کر حمزہ کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا ، حمزہ کو 26 نومبر کو سائٹ سپر ہائی وے سے اغوا کیا، مغوی کو کئی گھنٹے تک گاڑی میں گھمایا جاتا رہا، جس کے بعد 35 لاکھ تاوان ایدھی سردخانے کے پاس وصول کیےگئے۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ ماسٹر مائنڈ عدنان اختر عدالت میں بطورکلرک کام کرتا ہے جبکہ حماد اور عمیر کسٹم میں سپاہی ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ذیشان قادرپولیس ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت اے ایس آئی ہے جبکہ اہلکار مسعود خواجہ اجمیر نگری تھانے کا اہلکار ہے اور زوہیب کے ڈی اے کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہا تھا۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ حسان عدنان ایل ایل بی کا سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے جبکہ حارث اسٹیٹ لائف میں بطورمنیجرکام کررہا تھا۔

تفتیشی ٹیم گرفتار ملزمان سے مذید تحقیقات کر رہی ہے اور مزید انکشافات بھی متوقع ہیں۔