سعودی عرب آنے والوں کو اب کیا کرنا ہوگا؟ نئی شرط


ریاض: سعودی محکمہ پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ وہ افراد جن کی مملکت میں مکمل کورونا ویکسینیشن نہیں ہوئی ان پر ہوٹل قرنطینہ کی شرط عائد کی گئی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مملکت کے محکمہ پاسپورٹ وامیگریشن(جوازات) کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک شہری نے استفسار کیا کہ میں نے ایک ویکسین سعودی عرب میں لگوائی ہے جبکہ دوسری اسی برانڈ کی اپنے ملک میں کیا سعودی عرب آنے پر لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا؟۔

جوازات نے وضاحت پیش کی کہ جن ممالک سے سفری پابندی کا خاتمہ کیا گیا ہے وہاں سے ایسے مسافر جنہوں نے مملکت میں کورونا کی ایک ویکسین لگوائی ہے ان کے لیے چار دسمبر سے براہ راست پروازیں کھولی جائیں گی۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ نے کہا کہ ایسے افراد کو مملکت لوٹنے پر لازمی تین دن کا ہوٹل قرنطینہ کرنا ہوگا اور تیسرے روز کورونا ٹیسٹ ہوگا، رپورٹ منفی آنے کی صورت میں قرنطینہ ختم کی جائے گی۔

خیال رہے کہ کئی تارکین وطن کا خیال تھا کہ ایک ہی کمپنی کی دوسری خوراک لگوانے والے قرنطینہ سے مستثنی ہوں گے۔

اس ضمن میں جوازات نے مزید کہا کہ دونوں خوراکیں مملکت میں لگوانے والے ہی قرنطینہ کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے دیگر کو اجازت نہیں ہے۔