سندھ سے سینیٹ کی تمام 7 جنرل نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدوار میدان میں


سندھ سے سینیٹ کی تمام 7 جنرل نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدوار میدان میں۔۔ کیا پیپلزپارٹی ہارس ٹریڈنگ سے الیکشن جیتنے کی کوشش کررہی ہے؟

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق آئندہ ماہ منعقد ہونے والے سینیٹ2021 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدوار سندھ کی تمام 7جنرل نشستوں پر الیکشن لڑیں گے۔ ان7 سیٹوں پر کل 10 امیدوار میدان میں اتریں گے ۔

جنرل، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی سیٹوں پر کل 17 امیدوار سندھ سے سینیٹ الیکشن کیلئے امیدوار ہوں گے جن میں سے جنرل نشست پر تحریک انصاف کے فیصل واوڈا، متحدہ قومی موممنٹ پاکستان کے فیصل سبزواری اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے صدر الدین شاہ امیدوار ہوں گے۔

جبکہ ان کے مقابلے میں تمام جنرل نشستوں پر انتخاب لڑنے والوں میں پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان، جام مہتاب، شہادت اعوان، تاج حیدر، صادق میمن اور دوست علی جیسر شامل ہوں گے۔

ٹیکنوکریٹس کی 2 نشستوں پر 4 امیدوار حصہ لیں گے جن میں سے پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک، کریم خواجہ جبکہ پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور تحریک لبیک پاکستان کے یشا اللہ خان شامل ہیں۔

دوسری جانب خواتین کیلئے مختص2 سیٹوں پر 3 خاتون امیدوار میدان میں ہوں گی جن میں پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان، رخسانہ شاہ اور ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب سینیٹ انتخابات 2021 میں حصہ لیں گی۔

سندھ اسمبلی میں سیٹوں کی تعداد دیکھی جائے تو پیپلزپارٹی کی کل 99 سیٹیں جبکہ تحریک انصاف، ایم کیوایم اور جی ڈی اے اتحاد کی 65 سیٹیں ہیں۔ اس لحاظ سے پیپلزپارٹی کا 7 جنرل سیٹوں پر 7 امیدوار کھڑا کرنا سوالیہ نشان ہے اور یہ تاثر مل رہا ہے کہ پیپلزپارٹی ہارس ٹریڈنگ سے تمام سیٹیں جیتنا چاہتی ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہوگی۔

خیال رہے کہ ایم کیوایم کے سابق ایم پی اے محفوظ یار خان نے دعویٰ کیا تھا کہ سینٹ الیکشن 2018 میں ایک ہسپتال میں ہمارے لوگوں کو خریدا گیا تھا، انہیں یہ کہا گیا کہ وہ آکر دوائی لے لیں اور پیسوں سے بھرے بیگ لیکر آتے رہے


دوسری جانب فیصل سبزواری نے بھی اس قسم کے خدشات ظاہر کئے ہیں۔