سندھ کی ایک کروڑ 80 لاکھ زرعی زمین غیرآباد ہونے کا ذمہ دار کون؟


تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبہ سندھ میں 1 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ زرعی زمین غیر آباد ہے۔

سندھ کے وزیر ماحولیات اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پانی کم ملنے کی وجہ سے سندھ کی 1 کروڑ 80 لاکھ زرعی زمین غیر آباد ہے، سندھ کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

انھوں نے دعوی کیا کہ پانی کی قلت نے سندھ کے کئی اضلاع کی زرخیز زمین کو بنجر بنادیا ہے، پانی کی قلت کی وجہ سے کاشت کاری ناممکن ہو گئی ہے، پانی کمی کی وجہ سے ناصرف زراعت بلکہ ماحولیات بھی متاثر ہو رہی ہے، پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس اور گنے کی فصل ختم ہو رہی ہے اور لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر بن چکی ہے، پنجاب میں آبی ذخائر کے نئے منصوبے سندھ کے پانی پر مزید ڈاکا ڈالنےکی سازش ہے۔

اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ وفاقی رپورٹ کے مطابق سندھ میں صرف 82 لاکھ ایکڑ زرعی زمین آباد ہے، اور پنجاب کی 3 کروڑ سے زائد زرعی زمین پر کاشت کاری ہو رہی ہے، پچھلے تین برس میں سندھ کو ربیع اور خریف میں 25 سے 45 فی صد تک پانی کی قلت سامنا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری طرف پنجاب میں نئی نہریں اور ڈیم بنا کر لاکھوں ایکڑ بارانی زمین کو آباد کرنے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔

وزیر ماحولیات نے کہا کہ سندھ اگر پانی مانگتا ہے تو پانی کی کمی کا بھاشن دیا جاتا ہے، 1991 کے آبی معاہدے کے تحت صوبے کو اس کے حصے کا پانی نہیں دیا جارہا، اگر پانی کم ہے تو پنجاب میں نئی نہریں اور کینالز کیوں بنائے جا رہے ہیں؟ اسماعیل راہو نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے رواں ماہ ٹی پی لنک کینال سے 2 ہزار کیوسک پانی چوری کیا ہے۔