سندھ کے نوجوانوں نے پانی میں جراثیم کی شناخت کرنے والی ڈیوائس تیار کرلی


پانی زندگی ہے اور پانی کا صاف ہونا بہت زیادہ ضروری ہے اور ہم جو پانی پیی رہے یہں وہ جراثیم سے بھرپور ہے جس کے باعث شہریوں کو بہت ساری بیماری لاحق ہوجاتی ہیں۔

سندھ کی مہران یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے دو نوجوان طلبہ کی ایک ٹیم نے ایسی ڈیوائس تیار کی ہے جس کی مدد سے پانی میں موجود جراثیم کی شناخت منٹوں میں ممکن ہے۔

محمد حمزہ اور محمد نامدار پاکستان کا روشن مستقبل ہیں جنہوں نے تھری ڈی پرنٹ کی مدد سے پورٹیبل مائیکرو اسکوپ بنائی ہے، جس سے حاصل ہونے والے نتائج 80 فیصد تک درست ملے۔

نوجوان طالب علموں کا کہنا ہے کہ پورٹیبل مائیکرواسکوپ مارکیٹ میں باآسانی 2 ہزار میں روپے دستیاب ہوگا تاہم ابھی یہ مارکیٹ میں موجود نہیں ہے۔

نوجوانوں کی بہترین ایجاد کی مدد سے سندھ میں جراثیم شدہ پانی سے نجات پائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اندرون میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور اگر پانی موجود بھی ہے تو وہ جراثیم سے بھرپور ہے۔