سپریم کورٹ : ذہنی مریضوں کی سزائے موت کےخلاف اپیلوں پرماہر نفسیات سے معاونت طلب


اسلام آباد سپریم کورٹ نے ذہنی مریضوں کی سزائے موت کےخلاف اپیلوں پرماہر نفسیات سے ملزمان کی ذہنی حالت کے تعین کےلئے معاونت طلب کر لی،عدالت نے وکلا سے تحریری معروضات بھی طلب کر لئے۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ذہنی مریضوں کی سزائے موت کےخلاف اپیلوں پرسماعت ہوئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ کیا ایسے افراد کے علاج معالجے کےلئے کوئی سینٹر ہے جہاں ان کا علاج ہو سکے؟،جسٹس منظور احمد ملک نے کہاکہ ایسے ملزمان کے علاج کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟ معاونت کریں،عدالت نے کہاکہ اگر ان ملزمان کی سزائے موت ختم کر دی جائے تو یہ اپنی باقی سزا کہاں گزاریں گے؟،جسٹس منصور علی نے کہاکہ ملزمان کی حالت بہتر ہوتی ہے تو کیا انکو سزائے موت دی جا سکے گی؟۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ جرم کے وقت ملزمان تندرست تھے تو کیا سزا ختم ہو جاتی ہے؟،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ملزمان اگر علاج بھی کراتے ہیں تب بھی وہ عمر قید کی سزا ہی کاٹ رہے ہوں گے، مریضوں اور بیماری سے متعلق تمام نکات عدالت کے سامنے کلیئر ہونے چاہئیں ،ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملزمان کی سزائے موت ختم کر کے کہیں اور بھیج دیا جائے، عدالت نے کہاکہ میڈیکل بورڈ یہ کہہ دے کہ ان کو سزائے موت نہیں ہو سکتی تو ملزمان کو جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔

عدالت نے ماہر نفسیات سے ملزمان کی ذہنی حالت کے تعین کےلئے معاونت طلب کرلی،عدالت نے کہاکہ بتائیں ذہنی امراض کے ملزمان کو سزائے موت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ ،عدالت نے وکلا سے تحریری معروضات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ برس 4 جنوری تک ملتوی کردی۔