سپریم کورٹ نےوزیراعظم کےمعاونین خصوصی کی تعیناتی درست قراردےدی


سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعیناتی درست قرار دے دی۔ معاونین خصوصی کی برطرفی کیلئے دائر اپیل خارج کردی گئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کسی بھی ماہر کی معاونت حاصل کرسکتے ہیں،عدالت عظمٰی زلفی بخاری کیس میں فیصلہ دے چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعیناتی کےخلاف دائر اپیل مسترد کردی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

جمعہ کوسپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف چوہدری اکرام ایڈوکیٹ کی اپیل پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نےواضح کردیا کہ وزیراعظم کسی بھی ماہر کی معاونت حاصل کرسکتے ہیں،زلفی بخاری کیس میں عدالت معاونین خصوصی سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دیئےکہ جس کام پرپابندی نہ ہو اس کےکرنےکی ممانعت نہیں ہوتی،آئین اور قانون معاونین خصوصی کی تعیناتی سے نہیں روکتا،معاونین کی تعیناتی وزیراعظم کی صوابدیدہے۔

درخواست گزارایڈووکیٹ چوہدری اکرام نے موقف اپنایا کہ معاونین خصوصی سروے آف پاکستان کے تحت نہیں آتے،کابینہ میں وزراء اور5مشیررکھنے کی اجازت ہے۔اس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں آپ نے صرف دوہری شہریت کا نکتہ اٹھایا تھا،سپریم کورٹ قراردے چکی ہے کہ دہری شہریت والا معاون خصوصی بن سکتا ہے،دہری شہریت والوں کی وفاداری پرشک نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نےمعاونین خصوصی کی تعیناتی درست قرار دیتے ہوئے اپیل خارج کردی۔