سیمنٹ مافیا کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا،انکوائری رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات


سی پیک منصوبوں اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے سیمنٹ مافیا نے گٹھ جوڑ کرکے عوام سے 40 ارب روپے کا ناجائز منافع بٹور لیا،کمپیٹیشن کمیشن پاکستان کی تحقیقات میں سیمنٹ مافیا کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا،

قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کرکے 40 ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا گیا ہے،آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچرر ایسوسی ایشن سمیت 19 بڑی سمینٹ فیکٹریاں ملوث نکلیں، دستاویز کے مطابق سیمنٹ مافیا نے خریداروں سے فی بوری 50 روپے اضافی قیمت وصول کی، قیمتوں کے تعین کیلئے کمپنیوں کے عہدیداروں نے واٹس ایپ پر گروپ بنا رکھا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوام کو دھوکہ دینے والوں میں 19 بڑی سیمنٹ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچرر ایسوسی ایشن نے بھی کلیدی کردار ادا کیا،سیمنٹ مافیا نے سی پیک منصوبوں اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی سے بھی ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے منافع میں 100 سے 800 فیصد تک اضافہ کیا۔

وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، سیمنٹ مہنگا ہونے سے اسٹیل، گلاس اور لکڑی کی صنعت کو بھی نقصان ہوا، تیل، کوئلے کی عالمی قیمتوں اور ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے باوجود سیمنٹ کی قیمتیں بڑھائی گئیں، اسلام آباد، پشاور اور لاہور ریجن میں زیادہ لوٹ مار کی گئی۔

مسابقتی کمیشن کی انکوائری کمیٹی نے ایسوسی ایشن سمیت ملوث کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی سفارش کردی۔

قوانین کی خلاف ورزی پر ساڑھے 7 کروڑ روپے یا ٹرن اوور کا 10 فیصد جرمانے کا امکان ہے، سمینٹ سیکٹر کو ماضی میں بھی 6 ارب 30 کروڑ جرمانہ کیا جاچکا ہے۔