سینیٹ انتخابات: سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر


سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے معاملے پر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا۔

ریفرنس اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا جس میں استدعا کی گئی کہ عدالت اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے پر رہنمائی کرے۔

اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ریفرنس پر دستخط کیے اور سینیٹ الیکشن سے متعلق ریفرنس سپریم کورٹ بھیجنے کی منظوری دی۔

صدر مملکت نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر ریفرنس سپریم کورٹ بھیجنے کی منظوری دیدی ہے جس میں سپریم کورٹ سے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ اور کے ذریعے کرانے پر رائے طلب گئی ہے۔

وفاقی کابینہ اجلاس میں سپریم کورٹ سے رائے لینے کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے جبکہ کابینہ نے سینیٹ الیکشن مارچ کے بجائے فروری میں شو آف ہینڈ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی اجازت کی ضرورت ہوگی۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کی مخالفت کی ہے پیپلزپارٹی کے رہنماء رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا غیر آئینی ہے اور انتخابات کی تاریخ کا تعین الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹرز کی مدت 12 مارچ کو رات 12 بجے ختم ہوگی۔

اس قبل سینٹ الیکشن پر جے یو آئی کے امیر اور پی ڈی ایم کے مرکزی رہنماء مولانا فضل الرحمان وفاقی کابينہ کو جاہل قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت آئين کو سبوتاژ کر رہی ہے۔