شریف خاندان کی سیاسی تاریخ کا سب سے شرمناک فیصلہ؟صدیق جان

صدیق جان کے مطابق مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور ان کے خاندان کی جانب سے ان کی سیاسی تاریخ کا سب سے گھٹیا فیصلہ اپنی والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان نہ آنا ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کو وفات پائے پانچ دن ہو گئے ہیں لیکن لندن میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ان کی میت کے ساتھ پاکستان کون جائے گا؟

صدیقی ان کا کہنا تھا کہ آج جمعہ کے روز بیگم شمیم اختر کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی لیکن اس کے بعد بھی یہ مشاورت کی جائے گی کہ ان کی میت کے ساتھ پاکستان کس کو بھیجا جائے؟ بیگم شمیم اختر کی میت کے ساتھ نا تو نواز شریف آ رہے ہیں اور نہ ہی ان کے صاحبزادہ حسن اور حسین نواز آرہے ہیں اور نہ ہی اسحاق ڈار ان کی میت کے ساتھ آئیں گے، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز کے بیٹوں میں سے یا نواز شریف کی بیٹی اسماء کو میت کے ساتھ پاکستان روانہ کرنے کے حوالے سے سوچا جا رہا ہے۔

m
صدیق جان کا کہنا تھا کہ بیگم شمیم اختر کی وفات کے بعد جو جو لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ نواز شریف اپنی والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان واپس آ جائیں گے تو میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ نواز شریف یا ان کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز کا پاکستان واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم اگر نواز شریف اپنی والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان واپس آنے کا اعلان کرتے ہیں تو یہ ان کی جانب سے بہت بڑا اعلان ہوگا اور میں سمجھوں گا کہ وہ اپنی بیانی کے ساتھ ڈٹ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے اپنی والدہ کی میت کے ساتھ پاکستان نہ آنے کا فیصلہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو دونوں ہاتھوں سے حرام کا پیسہ کماتے ہیں تو آپ اپنوں کے جنازہ کو کندھا دینے کے لیے بھی اپنے ملک نہ آنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اپنوں کی بجائے اپنے پیسے کو ترجیح دیتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی پیدا کرنے والی ماں کی وجہ ہے اپنے حرام کے پیسے کو ترجیح دیتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسا شریف خاندان کے ساتھ ہو رہا ہے، جو اپنی ماں سے زیادہ اپنے حرام کے پیسے کو ترجیح دے رہا ہے۔

دوسری جانب صحافی صدیق جان کا حکومت، فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کی جانب سے آج یہ کہا جارہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے فوج اور آئی ایس آئی کے درمیان اختلافات ہیں، ایسا بالکل بھی نہیں ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان بھی مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کبھی بھی مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بہت ضروری بریفنگ دی گئی تھی اس بریفنگ کا مقصد پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے نامور صحافیوں کو پاکستان نے جو بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے شواہد پیش کیے ہیں کے حوالے سے آگاہ کرنا تھا، وہاں پر شاہ محمود قریشی کو تجاویز دی جاتی رہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے نہ ہماراموقف کبھی بدلہ ہے اور نہ ہی کبھی بدلے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کو لے کر بہت بھاری قیمت چکا رہا ہے، فلسطین کے مسئلہ کے حل کے لیے جو وہ ایسی بنائی گئی تھی اور اس کے ممبر عرب ممالک جو کل تک فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے ساتھ کھڑے تھے آج وہی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے چلے جارہے ہیں،

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کی وجہ یہ بنی کہ پاکستان نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ او آئی سی کے پلیٹ فورم سے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرے جس پر سعودی عرب نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو دیے گئے اربوں ڈالرز واپس مانگ لیے جو ایک گھٹیا ترین اقدام ہے۔