شوکت عزیز ودیگر کے خلاف غیرقانونی بھرتیوں کا کیس


اسلام آباد : سابق وزیراعظم شوکت عزیز ودیگر کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں ملزمان پرفرد جرم عائد کی کارروائی پھر مؤخر کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں زیر سماعت سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور دیگر کیخلاف غیرقانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ایک بار پھر مؤخر کردی گئی۔

اس موقع پر وکیل صفائی نے کہا کہ احتساب عدالت کے بریت کے فیصلے پردرخواست ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے، بریت کی درخواستوں پر نیب نے ہائی کورٹ میں وقت مانگا ہے۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں17 جنوری کو کیس کی سماعت ہوگی، وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ہائیکورٹ کے فیصلے تک سماعت ملتوی کی جائے۔

احتساب عدالت نے وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت 5 جنوری تک ملتوی کردی، یاد رہے کہ بشارت حسن کو غیرقانونی طور پر متبادل توانائی بورڈ میں کنسلٹنٹ رکھنے کا الزام ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے مذکورہ کیس میں شوکت عزیز کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے، احتساب عدالت نے کیس کی سماعت 5 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے سماعت برخاست کردی۔

واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے خلافِ ضابطہ کنسلٹنٹ تقرری کے الزام پر سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا،ریفرنس میں سابق وفاقی وزیر لیاقت علی خان جتوئی کو شریک ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سابق سیکرٹری اسماعیل قریشی اور یوسف میمن کو بھی شریک ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ نیب اعلامیہ کے مطابق ملزمان نے کنسلٹنٹ بشارت حسین بشیر کی غیر قانونی تقرری کی۔

سال2008 میں کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود بشارت حسین بشیر نے پانچ سال تک غیر قانونی طور پر عہدہ سنبھالے رکھا، انہیں متبادل توانائی بورڈ میں ایم پی 2ٹو سکیل میں تعینات کیا گیا تھا۔