شوگر مافیاکے خلاف تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو کس شخصیت پر ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے ہٹایا گیا ؟نجی ٹی وی کا تہلکہ خیز دعویٰ


لاہور نجی ٹی وی جیونیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ شوگر مافیا کے خلاف تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کو خسرو بختیار کے خاندان کی شوگر ملوں کے خلاف کارروائی کرنے پر ہٹایا گیا ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق وفاقی وزیر خسرو بختیار کے خاندان کی ٹو سٹار شوگر مل کے خلاف کارروائی کرنے پر چینی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو ہٹایا گیا، ایف آئی اے کی ٹیم خسرو بختیار کو ٹو اسٹار شوگر مل میں 13 کروڑ کے شیئرزرکھنے پر طلب کرنا چاہتی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نے جہانگیر ترین کی شوگر سکینڈل میں گرفتاری کی اجازت بھی مانگی تھی اور اپنے موقف پر قائم رہنے پر کل ان کو کام سے روک دیا گیا جب کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ ڈاکٹر رضوان کو ایف آئی اے سے بھی فارغ کردیا گیا ہے تاہم ڈاکٹر رضوان کو حکومت کے اگلے حکم کا انتظار ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی تحقیقاتی ٹیم رواں ہفتے 5 مزید شوگر مل مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے والی تھی، اس وقت مجموعی طور پر 12 ایف آئی آر درج ہیں جن میں 3 جہانگیر ترین اور ایک ایف آئی آر شہباز شریف خاندان کے خلاف درج ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر مل مالکان اور سٹہ مافیا کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پراسیکیوشن میں کمزور تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رضوان کے بعد اب شوگر سکینڈل انکوائری سینئر افسر ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ابو بکر خدا بخش کو دے دی گئی جو اب تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کریں گے جب کہ اب تحقیقات نئے سرے سے ہوں گی۔