شہباز شریف کی گرفتاری پر جواب دینے کی بجائے لیگی رہنما کی آئیں، بائیں، شائیں

0
77


نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان منصور علی خان نے نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری پر لیگی رہنما سے ردعمل مانگا تو وہ کوئی سیدھا جواب نہ دے سکے بلکہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔

منصور علی خان نے نیب کی جانب سے بنائی گئی چارج شیٹ پڑھ کر سنائی جس میں انہوں نے بتایا کہ جی این سی، گڈ نیچر کمپنی کے ذریعے شہباز شریف اور ان کے خاندان نے 1.8 بلین روپے منی لانڈرنگ کی۔ 124 ملین روپے کی انکم ظاہر کی گئی ہے مگر اس کا ذریعہ نہیں بتایا، 78ملین روپے زرعی انکم کا دعویٰ کیا گیا جبکہ سال 2008 کی شہباز شریف کی انکم 14 ملین روپے تھی۔

عبوری ضمانت منظور ہونے کے بعد شہباز شریف نے نیب کو اپنے کاروبار سے متعلق بتایا ہی نہیں، غیر ملکی فلیٹس سے متعلق کہتے ہیں کہ قرض لیا مگر اس کی کوئی دستاویزات فراہم بھی نہیں کر سکے۔ پراسیکیوٹر فیصل بخاری نے بتایا کہ شہباز شریف جب جلاوطنی میں تھے تو انہوں نے وہ فلیٹس کیسے خرید لیے۔

منصورعلی خان کی جانب سےشہبازشریف پرشہزاد اکبرکی جانب سےمنی لانڈرنگ کی چارچ شیٹ باربارپڑھنےپردیکھئےمیاں جاوید لطیف کا حیران کن تبصرہ @Mian_JavedLatif
*Team MAK* pic.twitter.com/gp1W4GTsqj

— Mansoor Ali Khan (@_Mansoor_Ali) September 28, 2020


بیرون ملک سے آئے پیسوں سے شہباز شریف نے اپنی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کو ڈیفنس میں گھر لے کر دیا۔ نثار احمد اور علی احمد کے اکاؤنٹس میں کل 23 ٹی ٹیز آئیں۔ تین کمپنیز کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے گئے اور ان اکاؤنٹس سے پیسے شہباز شریف فیملی کو آ رہے تھے۔

اس چارج شیٹ کو سننے کے بعد لیگی رہنما جاوید لطیف بولے کے اس گرفتاری کی وجہ اے پی سی ہے جہاں حکومت کی پیدا کی گئی مہنگائی کی اس لہر نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں اگر آپ دیکھیں کہ دو سال پہلے دال آٹے اور چینی کی قیمتیں کیا تھیں اور اب کیا ہیں تو آپ کو ان سب سوالوں کا جواب مل جائے گا۔

منصور علی خان نے کہا کہ اس چارج شیٹ کا جواب دیں جس پر جاوید لطیف بولے کے اس کا وہی جواب ہے جو وہ پہلے بتا چکے ہیں کہ حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ سب ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔