صدر عارف علوی کے بیان پر فرانسیسی حکومت کا پاکستانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج


صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان پر فرانس کا پاکستانی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج

فرانس کی وزارت خارجہ نے ڈاکٹر عارف علوی کی فرانسیسی قانون سازی کے خلاف تنقید پر پاکستانی سفارتکار کو وزارت میں طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی نے ایک مذہبی کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا کہ فرانس میں اسلام مخالف سخت قانون سازی کر کے مسلمانوں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔یہ ایک خطرناک مثال ہے کہ اکثریت کی حمایت میں قانون تبدیل کر کے اقلیت کو تنہائی کا شکار کیا جائے۔


صدر عارف علوی نے فرانس میں توہین آمیز خاکوں کے معاملے کے بعد اسکول ٹیچر کے قتل کے بعد سامنے آنے والی قانون سازی پر یہ بھی کہا تھا کہ جب کوئی آپﷺ کی توہین کرتا ہے تو وہ سبھی مسلمانوں کی توہین کرتا ہے جس سے سب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا تھا کہ میں فرانس کی سیاسی قیادت پر زور دیتا ہوں کہ ایسے معاملات کو قوانین میں مت گھسائیں، لوگوں کو قریب لائیں، کسی خاص مذہب کو خاص طریقے سے پیش کر کے لوگوں میں نفرت اور تعصب پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی کے اس بیان پر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں صدر پاکستان کے اس بیان پر حیرت اور ناراضگی ہے کیونکہ یہ بل مذہب کی آزادی اور بنیادی اصولوں پر مبنی ہے اس میں کہیں مذاہب کے درمیان تفریق نہیں ہے اور تمام عقیدوں کے حوالے سے یکساں ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جب فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے نے ایک بار پھر سے سر اٹھایا تو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا دفاع کیا تھا جس کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں فرنچ صدر کے اس بیان کی مذمت کی گئی تھی اور اس پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

صدر ایمانوئل میکرون کے اس بیان کے بعد کئی مسلم ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ بھی کر دیا تھا۔