صوبائی حکومتیں سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز کے خلاف ایکشن لیں،وزارت داخلہ

تمام صوبائی حکومتیں مذہبی و سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز کے خلاف مؤثر کارروائی کریں، وفاقی وزارت داخلہ

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تمام صوبائی حکومتوں کو مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے لیے مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تمام صوبائی حکومتوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اپنی ملیشیا بنا رکھی ہے، جو مسلح افواج کی طرح وردی پہنتی ہیں اور مسلح افواج کی طرح انہیں رینک بھی لگائے جاتے ہیں۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں وفاقی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملیشیا بنانا آئین کے آرٹیکل 256 اور نیشنل ایکشن پلان کے تیسرے نکتے کی خلاف ورزی ہے، ایسی تنظیمیں غلط مثال قائم کررہی ہیں، اس معاملے سے ملک کا دنیا میں منفی تاثر ابھرے گا۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایسے مسلح ونگز کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو سیکیورٹی کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے، تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ فوری اس کا نوٹس لیکر ان کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں اور صوبائی حکومتوں کی اس معاملے میں ہر ممکن مدد کے لیے وفاقی حکومت تیار ہے۔

دوسری جانب جمیعت علماۓ اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا وفاق کی جانب سے تمام صوبوں کو جاری کیے گئے مراسلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وفاق کے جاری مراسلے کے الفاظ نئے نہیں ہیں، رضاکار اور عسکری ونگ میں فرق ہوتا ہے، ہمارے رضاکار انصارالاسلام الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہیں، ہمارے رضاکاروں پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمن کا اپنے رد عمل میں مزید کہنا تھا کہ 2001ء میں ہم نے لاکھوں جلسے کیے، ہمارے رضاکاروں کی پلاننگ کو اس وقت کے وزیرداخلہ نے سراہا،2017 ء میں بھی ہم نےجلسے کیے جن میں انصارالاسلام کے رضاکاروں نے سیکیورٹی سنبھالی، یہاں تک کہ آزادی مارچ کی سکیورٹی بھی انہیں رضا کاروں کی جانب سے سنبھالی گئی تھی جس میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا تھا، وفاق کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے صرف سیاسی دباؤ ہیں۔