غریب ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے، عمران خان


اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب ملکوں کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے، ایلیٹ کلاس ملک کا پیسہ چوری کرکے باہر بھیج دیتے ہیں، ایک ہزار ارب ڈالر ہر سال چوری ہوکر امیر ملکوں میں چلا جاتا ہے۔

یہ بات وزیراعظم کا پاک چائنہ بزنس انویسٹمنٹ فورم کےاجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت کی الائنمنٹ کردی، صنعتوں کی ترقی اور ایکسپورٹ پر توجہ دے رہے ہیں۔

سبزیاں اور پیاز بیچنے سے ملک کی دولت نہیں بڑھنے والی، سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو کم سے کم کرتے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بزنس انویسٹمنٹ فورم کے اجراء پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، تقریب میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، سرمایہ کاری میں جو وقت لگتا ہے وہ بہت زیادہ ہے، ایک سرمایہ کار کیلئے وقت بہت اہم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو کم سے کم کرتے جارہے ہیں، کاروبار اور سرمایہ کاری کو مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

ریشنلائزیشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر ملک کی دولت بڑھ نہیں سکتی، چھوٹے چھوٹے ممالک کی ایکسپورٹ ہم سے بہت زیادہ ہے، معاشرے میں آگے بڑھنے کیلئے ایکسپورٹ میں اضافہ ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سبزیاں اور پیاز بیچنے سے ملک کی دولت نہیں بڑھنے والی، آئی ٹی ایکسپورٹ میں صرف دو سال میں دگنی ہوگئی ہے، ہمارے پاس نوجوان اور صلاحیتیں مگر آئی ٹی ایکسپورٹ پر توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ممالک نے ایکسپورٹ کو قومی ترجیح سمجھا ہے، برآمدات بڑھائے بغیر کوئی بھی ملک آگے نہیں جاسکتا، ہم خوش قسمت ہیں کہ دنیا میں تیزی سے ترقی کرتا چین ہمارے ساتھ ہے، ہم نے مسائل کو حل کیا ملک کی معیشت کو مستحکم کیا پھر کورونا آگیا۔

ملک میں سارمای کاری کے فروغ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم چین کے سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، بھارت میں کورونا کے بعد ترقی کی منفی 7فیصد پر چلی گئی، ملک کی ترقی صنعت کی ترقی سے وابستہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی حکومت کی الائنمنٹ کردی ہے، صنعتوں کی ترقی اور ایکسپورٹ پر توجہ دے رہی ہے، غریب ملکوں کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ایلیٹ لوگ غریب ملک کا پیسہ چوری کرکے باہر بھیج دیتے ہیں، ایک ہزار ارب ڈالر ہر سال چوری ہوکر امیر ملکوں میں چلا جاتا ہے، سی پیک فیز ٹو میں ہم نے سب سے زیادہ زراعت پر توجہ دینی ہے۔