غریب ممالک کے لئے قرضوں کی ادائیگی کو موخر کیا جانا چاہیے، ترقی پذیر ممالک کیلئے کم از کم 500 ارب ڈالر مختص کئے جائیں، وزیراعظم عمران خان کا عالمی برادری سے مطالبہ

0
95


اسلام آباد(آن لائن ) وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگربھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی تو قوم اس کا بھرپور جواب دے گی،وزیر اعظم کا کہناہے کہ دنیا میں بھارت واحد ملک ہے جہاں ریاست کی معاونت سے اسلاموفوبیا ہے، بھارت میں آر ایس ایس کی انتہاء پسند حکومت قائم ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کونشانہ بنارہی ہے، ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کو رہنے کا حق نہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین ماپالی کی جارہی ہے ،عالمی برادری لازمی طور پر کشمیر میں

سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے، مسئلہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات،مسائل کابات چیت سے حل ہے، آج پاکستان کے اقدامات کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک کامیاب کہانی بن چکی ہے،وبا انسانیت کو متحد کرنے کے لیے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا، منی لانڈرنگ کرنیوالے طاقت ورعناصر کی رسائی بہترین وکلا تک ہے،امیرممالک میں اس مجرمانہ سرگرمی کوروکنے کیلئے سیاسی عزم کی کمی ہے، جنرل اسمبلی کوغیرقانونی مالیاتی منتقلی،لوٹی گئی رقم کی واپسی کیلئے موثر قانونی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے، ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ہم اس موقع پر امن ، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ وولکن اوسکرکوجنرل اسمبلی کا75واں صدرمنتخب ہونے پرمبارکبادپیش کرتاہوں۔ہم سخت وقت میں سیکریٹری جنرل یواین اوکی قیادت کوبھی سراہتے ہیں۔موجودہ صدر کی ماہرانہ قیادت کابھی معترف ہوں جنھوں نے کوروناکیخلاف بہترین خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا جب سے میری حکومت آئی ہے پاکستان کو نیا پاکستان بنارہے ہیں جو ریاست مدینہ کی طرز پر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں امن و استحکامکی ضرورت ہے جومذاکرات سے ممکن ہے۔جنرل اسمبلی دنیا میں واحد ادارہ ہے جو امن حاصل کرنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرونی معاملات میں مداخلت سمیت دیگر معاملات پر عمل مفقود ہوچکا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمگیر وبا نے غریب ممالک کی معاشی حالت کو مزید ابتر کردیا ہے۔انہوں کہا کہ دنیا میں کوئیمحفوظ نہیں ہے لاک ڈاؤن سے دنیا میں کساد بازاری ہوئی اور تمام ممالک غریب ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن سے قبل ہم نے لاک ڈاؤن کے باعث بھوک سے زیادہ ہلاکتوں کے خدشے پر ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی اور ہم نے زراعت کے شعبے کو فوری کھول دیا جس کے بعد تعمیراتی شعبے کو بھی کھول دیا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے اقدامات کورونا کو پھیلنےسے روکنے کے لیے ایک کامیاب کہانی بن چکی ہے۔ہم نے غریب طبقے کو لاک ڈاؤن کے شدیداثرات سے محفوظ رکھا ،آج پاکستان وباء پرکامیابی سے قابوپانے والے ممالک کی فہرست میں ہے۔ہم اب بھی کوروناسے بچاؤ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،وزیر اعظم نے کہا ترقی پذیر ممالک کوکورونابحران سے نمٹنے کیلئے مالی وسائل درکار تھے۔آئی ایم ایف نے ترقی پذیرملکوں کوبحران سےنمٹنے کیلئے2.5 کھرب ڈالرکاتخمینہ لگایا ہے ۔غریب ممالک کیلئے قرضوں کی ادائیگی کو موخر کیا جانا چاہیے۔قرضوں میں ریلیف کیلئے اضافی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔احساس پروگرام کے تحت چھوٹے کاروبار اورغریب افرادکونقد رقم دی گئی،وزیر اعظم نے کہا کہ کورونانے دنیاکوایک دوسرے سے قریب ہونے کا موقع فراہم کیاہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت نے 8 ارب ڈالرصحت کے شعبے اور احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کے لیے مختص کیا، اس سے ہم نے نہ صرف وائرس کو پھیلنے سے روکا بلکہ معیشت کو بھی بحال رکھا۔ ۔ عمران خان نے کہا ہم نے3سال میں 10ملین درخت لگانیکا منصوبہ بنایاہے۔حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کے معیار زندگی میں اضافہ ہے،۔ہم نے نبی پاک کی ریاست مدینہ کے تصورپرنئے پاکستان کا ماڈلتشکیل دی ہے۔امیر ملک منی لانڈرنگ کرنیوالوں کوتحفظ دیکرانصاف کی بات نہیں کرسکتے۔ ہم نہ صرف کوروناسے نمٹنے میں کامیاب ہوئے بلکہ معیشت کو بھی استحکام دیا۔ترقی پذیر ممالک کوقرضوں کی ادائیگی میں مہلت سیریلیف ملا۔ وزیر اعظم کا کہناتھاکہ فوجی قبضے اورغیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے حق خودارادیت کو دبایا جا رہا ہے۔بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاںاڑائیں جا رہی ہیں۔نئی مخالف طاقتوں کے درمیان اسلحے کی نئی دوڑ چل رہی ہے۔اسی صورت ہم عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو بھی پورا کر سکتے ہیں ، وزیر اعظم کا کہناتھاکہ ہماری خارجہ پالیسی کامقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات،مسائل کابات چیت سے حل ہے۔دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں۔کورونانے دنیا بھر میں غریب اور نادار افرادکو سخت متاثر کیا ۔پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی ۔انہوں نے کہا کہ وبا انسانیت کو متحد کرنے کے لیے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقدس مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہمارے پیغمبر ؐکی گستاخی کی گئی، قرآن کو جلایاگیااور یہ سب کچھ اظہار آزادی کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی بات کی جو حالیہ مثال ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ماحولیاتی تبدیلی سے ہماری آنیوالی نسلوں کو خطرات لاحق ہیں۔ہمیں دنیاکوماحولیاتی تبدیلیوں سے درپیش خطرات کوبھی دیکھنا ہے۔یہ جانناضروری ہیکہ بدعنوان اشرافیہ کی طرف سے ر قوم کی منتقلی کی نسبت مالی امدادبہت کم ہے۔ جنرلاسمبلی کوغیرقانونی مالیاتی منتقلی،لوٹی گئی رقم کی واپسی کیلئے موثر قانونی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔امیر ملکوں نے کوروناسے نمٹنے کیلئے 10 کھرب ڈالر مختص کیے ۔ ترقی پذیرممالک کیلئے کم ازکم500ارب ڈالرمختص کی جانے چاہیں۔جوپیسہ انسانی وسائل کیفروغ کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے وہ بد عنوان اشرافیہ کے ساتھ چلاجاتا ہے۔زرمبادلہ کے نقصان سیکرنسی کی قدرمیں کمی ،مہنگائی اورغربت بڑھتی ہے۔چوری شدہ وسائل کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا منی لانڈرنگ کرنیوالے طاقت ورعناصر کی رسائی بہترین وکلا تک ہے۔امیرممالک میں اس مجرمانہ سرگرمی کوروکنے کیلئے سیاسی عزم کی کمی ہے۔عمران خان نے کہا کہ دنیا میں بھارت واحد ملک ہے جہاں ریاست کی معاونت سے اسلاموفوبیا ہے اس کی وجہ آر ایس ایسکے نظریات ہیں جو بدقسمتی سے بھارت میں حکمران ہے۔بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس انتہا پسند نظریے کی تشکیل 1920 کی دہائی میں کی گئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ عمران خان نے ایک بار پھر کشمیر، فلسطین اور افغانستان سمیت اسلامو فوبیا کے مسائل پرآواز اٹھاتے ہوئے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ سے عالمی تنازعات کے حل کیلئے آگے بڑھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت میں آر ایس ایس کی انتہاء پسند حکومت قائم ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنارہی ہے، بھارت میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کو رہنے کا حق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیحقوق کی بدترین ماپالی کی جارہی ہے۔بھارتی فوج مقبوضہ کشمیرمیں پرامن مظاہرین پرتشدد کررہی ہے،پیلٹ گن استعمال کررہی ہے۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے اضافی فوج بلائی گئی، بین الااقوامی برادری لازمی طور پر کشمیر میں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔ بھارتی دہشت گرد فورسز جعلی مقابلوں میں سیکڑوں بے گناہ کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل کرچکی ہیں۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر آ واز بلند کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، سیکیورٹی کونسل نے گزشتہ سال 3 بار کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔عمران خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگربھارت کی فسطائی حکومتنے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی تو قوم بھرپور جواب دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے اضافی فوج بلائی گئی، بین الااقوامی برادری لازمی طورپرکشمیرمیں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت، عوام حق خودرادیت کیلئے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتی ہے، بھارت یو این قراردادوں،کشمیریوں کی خواہش کے مطابق تنازع کے حل پر متفق ہو اور فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی دیگر پابندیوں کو فوری ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے عالمی معاہدوں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، حق خودارادیتجیسے بنیادی اصول کو کچلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات،مسائل کابات چیت سے حل ہے، ہم اس موقع پر امن ، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔