فضائی سفر کی تاریخ کا بدترین طیارہ حادثہ جو سینکڑوں زندگیاں نگل گیا


میڈرڈ آج سے 44سال قبل آج ہی کے دن (27مارچ 1977ئ)فضائی سفر کی تاریخ کا وہ بدترین حادثہ رونما ہوا تھا جو 583مسافروں کی زندگیاں نگل گیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اپنی نوعیت کے اس منفرد حادثے میں ہوائی جہاز گر کر تباہ نہیں ہوا تھا بلکہ دو بوائنگ 747جمبو جیٹ رن وے پر دوڑتے ہوئے ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے۔ یوں یہ ہوائی جہاز کا غالباً واحد ایکسیڈنٹ بھی کہلاتا ہے جو سپین کے جزیرے ٹینریف کے لاس روڈیوز ایئرپورٹ پر پیش آیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ کچھ یوں پیش آیا کہ اس روز سپین کے گرین کینریا ایئرپورٹ پر ایم بم دھماکہ ہوا جس میں آٹھ لوگ زخمی ہو گئے۔ ایئرپورٹ پر یہ بم علیحدگی پسند تنظیم ’کینری آئی لینڈز انڈیپنڈنٹس موومنٹ‘ کے علیحدگی پسندوں نے نصب کیا تھا۔ ایئرپورٹ پر دوسرے بم کے خطرے کے پیش نظر وہاں آنے والی تمام فلائٹس کو قریب واقع ’لاس روڈیوس ایئرپورٹ‘ کی طرف موڑ دیا گیا۔

لاس روڈیوس ایئرپورٹ بہت چھوٹا ایئرپورٹ تھا جو اتنی پرواز کو نہیں سنبھال سکتا تھا۔ ٹیکسی میں جگہ ختم ہوجانے پر پائلٹس نے اپنے طیارے ٹیک آف پوزیشن میں ہی ٹیکسی کرنے شروع کر دیئے تھے۔ اسی دوران ایمسٹرڈیم سے جانے والی ڈُچ ایئرلائن کے ایل ایم کی پرواز 4805اور پین اے ایم فلائٹ 1736اس ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے رن وے پر ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں اور فضائی سفر کی تاریخ کا یہ بدترین واقعہ پیش آ گیا۔

یہ واقعہ کے ایل ایم کے پائلٹ جیکب وین زینٹن کی غلطی سے پیش آیا، جو انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھے۔ ان کے پاس 11ہزار گھنٹے پرواز کا تجربہ تھا۔آج بھی ایوی ایشن ماہرین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنا تجربہ کار پائلٹ کیسے ایسی غلطی کر سکتا ہے۔