فوج مخالف بیانات، حکومت کا مفتی کفایت اللہ کے خلاف کاروائی کا فیصلہ


فوج مخالف بیانیے کے خلاف حکومت بر سر پیکار، وزیراعظم کی ترجمانوں کو خصوصی ہدایت، مفتی کفایت اللہ بھی نشانے پر

جے یو آئی (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ جو آئے روز پاک فوج کے خلاف کوئی نہ کوئی بیان داغ دیتے ہیں ان کے اس بیانیے کی وجہ سے وہ اب حکومت کے نشانے پر ہیں اس حوالے سے حکومت نے کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومت اور تحریک انصاف کے ترجمانوں کا اجلاس بلایا گیا جس میں وزیراعظم نے ملکی سیاسی صورتحال بالخصوص پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی ملک گیر تحریک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اجلاس کے دوران بتایا کہ مفتی کفایت اللہ کے فوج مخالف بیانیے پر اب حکومت نے کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے لیے ان کے خلاف وزارت داخلہ کی جانب سے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے ترجمانوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ فوج مخالف بیانیے پر موثر جوابی حکمت عملی اپنائیں اور عوام کو یہ بھی آگاہ کیا جائے کہ بغیر کسی کاروبار اور باقائدہ ذریعہ آمدن کے مولانا فضل الرحمان نے اتنے اثاثے کیسے بنائے۔

واضح رہے کہ مفتی کفایت اللہ آئے روز ٹی وی ٹاک شوز پر بیٹھ کر پاک فوج اور اداروں کے خلاف بولتے ہیں ، انہیں دھمکیاں دیتے اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اسکے باوجود ٹی وی اینکرز مفتی کفایت اللہ کو مدعو کرتے ہیں۔ مفتی کفایت اللہ نے کچھ قبل یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ایک نہیں تین استعفے چاہئیں۔

مفتی کفایت اللہ ہی وہ شخصیت ہے جو یہ بیان دے چکے ہیں کہ وکی لیکس کا وکی جمائما خان کا بھائی ہے۔2019 میں مفتی کفایت اللہ نے ایک اور دلچسپ بیان دیا تھا کہ اگر وہ عمران خان کا استعفی لیکر نہ گئے تو انکی بیویاں انہیں گھروں میں نہیں گھسنے دیں گی لیکن جے یوائی ف کا دھرنا عمران خان کے استعفے کے بغیر ہی اختتام پذیر ہوگیا تھا۔