قصور، معصوم بچی ریپ کیس کے ملزم کو مدعی نے وکیل کے چیمبر میں ہی مار دیا


ڈسٹرکٹ کورٹ کے احاطے میں قائم وکیل کے چیمبر میں مدعی نے گھس کر مدعی نے گھس کر بچی کے ریپ کے مقدمے میں نامزد ملزم کو گولی مار کر قتل کردیا

23 ستمبر کو قصور کے گاؤں ویرام میں مبینہ طور پرکمسن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا جس کے رپورٹ ہونے کے بعد ملزم محمد سلیم عرف ملنگی فرار ہوگیا تھا۔ پولیس نے مبینہ ملزم کے خلاف دفعہ 376 اور 511 کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔

مقدمے کے اندراج کے بعد چند روز قبل ملزم سلیم نے اپنے وکیل کے ذریعے عبوری ضمانت کی درخواست دی تھی۔ ضمانت کے سلسلے میں ملزم گزشتہ روز علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا اور پھر ضلعی عدلیہ کے گیٹ نمبر 2 کے قریب قائم اپنے وکیل محمد اشفاق کے چیمبر میں چلا گیا۔

مقدمے کا مدعی جو اسی گاؤں کا رہائشی ہے وکیل محمد اشفاق کے چیمبر میں داخل ہوا اور ملزم سلیم کو گولی مار کر قتل کردیا۔

جس کے بعد متعلقہ حکام جائے وقوع پر پہنچے اور شواہد اکھٹے کیے پولیس کی بھاری نفری نے موقعہ واردات پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کیے جس کے بعد ڈسٹرک بار ایسوسی ایشن نے لاقانونیت اور عدم تحفظ کے خلاف ہڑتال کردی۔

خیال رہے کہ ملک میں ریپ کے واقعات رپورٹ ہونے میں گزشتہ ماہ موٹروے پر ہونے والے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد سے خاصی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔گزشتہ روز ایک اور ننھی زینب کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردیا گیا جبکہ گزشتہ کچھ دنوں سے لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، کراچی، بہاولپور میں زیادتی کے کیسز میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے