لارڈ نذیر کو استعفیٰ سے پہلے ہی برطرف کیا جاچکا تھا، سنگین ترین الزامات لگ گئے

لندن (ویب ڈیسک ) برطانوی پارلیمنٹ کی لارڈز کنڈکٹ کمیٹی نے 16 نومبر کو 268 صفحات پر مشتمل ایک انکوائری رپورٹ شائع کی ہے۔جس میں برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر کو پارلیمنٹ سے نکالے جانے کی سفارش کی ہے کسی لارڈ کو برطرف کئے جانے کے بارے میں برطانوی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے تاہم رپورٹ میں کئی ایک الزامات کے بارے میں تفصیل دی ہے جس میں جنسی ہراسگی، جھوٹ بولنا اور دیگر الزامات شامل ہیں،۔

روزنامہ جنگ کے مطابق لارڈ نذیر نے آنے والی رپورٹ دیکھ لی تھی جس کے بعد انہوں نے 14 انومبر کو برطانوی پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔شائع ہونے والی رپورٹ میں کئی ایک الزامات کو بڑی تفصیل سے اجاگرکیا گیا ہے۔

لندن سے مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق لارڈ نذیر نے ایک مرتبہ پھر تمام الزامات کی تردید کی اور کہا ہے کہ پولیس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اس رپورٹ کے خلاف وہ یورپین کورٹس آف ہیومن رائٹس میں اپیل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ طاہرہ زمان نامی عورت نے متعدد بار ان کی کردار کشی کی ہے،تاہم برطانوی پارلیمنٹ نے ان کے تمام تر موقف کو مسترد کرتے ہوئے لارڈ نذیر کی برطانوی پارلیمنٹ سے برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔