لاہور:افغان مہاجرین کا رشتوں کیلئے رائج رسم’ولور’ختم کرنے کا فیصلہ


میڈیا رپورٹس کے مطابق کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو میں پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کا اہم جرگہ ہوا، جرگے میں شریک تمام افغان مہاجرین نے بہن اور بیٹیوں کے رشتوں کے عوض لڑکے والوں سے پیسے لینے کی رسم “ولور” ختم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

خبر رساں ادارے ایکسپریس نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے افغان مہاجرین کمیٹی پنجاب کے نائب صدر حاجی محمدخان کا کہنا تھا کہ پشتون خاندانوں میں بدقسمتی سے یہ رسم چلی آ رہی تھی کہ بہن اور بیٹی کے رشتے کے وقت لڑکے والوں سے 10 لاکھ روپے رقم لی جاتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ لڑکی کا رشتہ لینے کے لئے رسم کے مطابق جو رقم مختص ہے اسے اکٹھا کرنے کے لئے ہمارے نوجوان لڑکے برسوں سخت محنت کرتے رہتے ہیں اور رقم کا انتظام کرتے کرتے بوڑھے ہو جاتے ہیں جبکہ لڑکیاں بھی رشتوں کے انتظار میں گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں، پشتونوں کی اس رسم کو ختم کرنے کا اب فیصلہ کیا ہے۔

افغان مہاجرین کمیٹی پنجاب کے نائب صدر حاجی محمدخان کا مزید کہنا تھا کہ پشتونوں کی “ولور” رسم شرعی اصولوں کے منافی ہے اور اب نکاح کے وقت شرعی حق مہر ہی لیا جائے گا، یا پھر دونوں خاندانوں کی رضامندی سے حق مہر کی رقم طے ہوگی وہ اب لڑکی کے خاندان والوں کو نہیں بلکہ لڑکی کو ملے گی۔

حاجی محمد خان کا خبر رساں ادارے کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم اس غیر شرعی رسم کو ختم کرنے کے لیے پورے ملک میں مہم چلائیں گے اور ملک بھر میں بسنے والے پشتون خاندانوں کو رضامند کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس غیر شرعی رسم کو ختم کرنے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ نوجوان لڑکے اور لڑکی کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔


صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو میں افغان مہاجرین کے جرگے کو منعقد کروانے میں یونائٹیڈ ہمدرد یوتھ نامی این جی او نے کردار ادا کیا ہے، جرگے میں افغان مہاجرین نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا۔