لاہور ایئرپورٹ کی توسیع : سول ایوی ایشن کی وضاحت


لاہور : علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کے توسیعی منصوبہ کے حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے وضاحت جاری کردی ہے۔

سی اے اے حکام کے مطابق پی سی اے اے نے2017-18 میں لاہور کے علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع کا منصوبہ بنایا تاکہ بڑھتی ائیرٹریفک سے نمٹا جاسکے۔

فلائٹ آپریشنز کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مراحل میں توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی کیونکہ ہوائی اڈے کی مکمل بندش ممکن نہیں تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ براؤن فیلڈ ہوائی اڈے کے توسیعی منصوبہ بندی درج ذیل مراحل میں کی گئی تاکہ محفوظ فلائٹ آپریشنز میں کم سے کم خلل پڑے۔

فیز ون : لینڈ سائیڈ ڈویلپمنٹ (کار پارک، سڑکیں، انڈر پاس) : مکمل

فیز ٹو: مین رن وے، ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی ویز (کوڈ فور ایف): مکمل

فیز تھری : ٹرمینل، ایپرن اور متعلقہ سہولیات کی توسیع : اسکیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔

فیز فور : بقیہ ایئر سائیڈ انفراسٹرکچر: منصوبہ انڈر پروسیس ہے

کوڈ فورایف (فیز ٹو) کے نئے کنکریٹ رن وے اور ریپڈ ٹیکسی ویز کو مکمل کر کے آپریشنل کر دیا گیا ہے۔

کنکریٹ کے رن وے کی زندگی 25 سے 30 سال ہے اور اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کی مفید عمر کے دوران یہاں سب سے بڑی کیٹگری کے ہوائی جہاز اترسکتے ہیں اور رن وے کی مفید عمر کے دوران اس کی تعمیر نو کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

کوڈ فورایف کی تفصیلات(ICAO Doc 9157)ICAO Doc 9157- Aerodrome Design Manual & Annex 14 (8th Edition)کے مطابق کوڈ فورایف کے حامل ہوائی جہاز کے لئے رن وے کی پیمائش یہ ہے۔

اے، رن وے کی کل چوڑائی: 75 میٹر، بی، ٹیکسی ویز کی کل چوڑائی: 44 میٹر۔ کوڈ فورایف کیٹیگری میں بہت سے طیارے آتے ہیں جن کا وزن اور پروں کی پیمائش مختلف ہوتی ہے جیسے بوئنگ 747-800، 777-900، اور ائر بس 380-800 وغیرہ۔

لاہور ایئرپورٹ کا رن وے:

لاہور ایئرپورٹ پر مین رن وے اور اس سے منسلک ٹیکسی ویز کے پیمائش درج ذیل ہے: اے: مین رن وے کی کل چوڑائی 75 میٹر۔

بی: نئی تعمیر کردہ ریپڈ ٹیکسی ویز کی کل چوڑائی: 44 میٹر۔ سی: موجودہ ٹیکسی ویز ‘این’، ‘کیو’ اور ‘ایس’: 44 میٹر۔ ڈی: موجودہ ٹیکسی ویز ‘پی’ اینڈ ‘آر’: 65 میٹر۔

رن وے کی طول و عرض کی پیمائش واضح طور پرICAO کوڈ 4F کے معیار پر پورا اترتی ہے۔ تاہم ہوائی جہاز کے وزن کے حوالے سے پابندیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور ایئرپورٹ کو جاری کردہ سرٹیفکیٹ کوڈ فورایف یا اس سے کم (محدود) نوعیت کا ہے۔

مندرجہ بالا تفصیلات کی بنیاد پر لاہور ایروڈروم کو کوڈ فورایف یا اس سے کم (محدود) کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ مکمل تفصیلات AIP پاکستان میں بھی شائع کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ نیا مین رن وے مال برداربی 747-800، بوئنگ 777-900 کے محدود آپریشنز کے لئے استعمال ہو سکتا ہے، جو کہ کوڈ 4F رن وے ہوائی جہاز ہیں۔

مزید برآں کسی بھی ہنگامی صورت حال کی صورت میں ایئربس 380 بھی لینڈ کرسکتا ہے لیکن اس کے پروں کے پھیلاؤ کی وجہ سے اسے فی الحال ٹرمینل بلڈنگ میں کھڑا نہیں کیا جاسکے گا۔

اس امر سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ ایئربس 380 کوڈ فورای کے حامل ایروڈرومز پر بھی اپریٹ کرسکتا ہے بشرطیکہ مخصوص شرائط پوری ہوتی ہوں۔ (دستاویز منسلک)

فیز تھری اور فور میں ٹیکسی ویز اور ایپرن کو مستحکم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے بعد کوڈ فور ایف طیاروں کے حوالے سے حدود و قیود ختم ہو جائیں گی۔