مروہ زیادتی کیس ، ملزم فیض اور ملزم عبداللہ افغانی کا ڈی این اے بھی میچ کرگیا

0
60
پولیس کی طرف سے دوران تفتیش حراست میں لیے گئے تیسرے ملزم نواز کو بے قصورقرار دے دیا گیا

کراچی شہر قائد کراچی کے علاقے عیسی نگری میں پیش آنے والے مروہ زیادتی کیس میں ملزم فیض اور ملزم عبداللہ افغانی کا ڈی این اے میچ کرگیا ۔ ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی کے مطابق مروہ زیادتی کیس میں 34 مشکوک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے ، جن میں سے ملزم فیض عرف فیضو اور دوسرے ملزم عبداللہ افغانی کا ڈی این اے ٹیسٹ میچ کرگیا ، تفتیش میں ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ بچی کے قاتل محلے کا ہی ہے ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی ثابت بھی ہوئی ، تو دکاندار نے بھی گواہی دی کہ بچی چیز لے کر گھر کی طرف گئی تھی ، جبکہ مروہ قتل و اجتماعی زیادتی کیس میں گرفتار ملزمان کے فنگر پرنٹس کی میچنگ بھی ہوئی ، جس کیلئے مروہ کے کپڑوں اور گرفتار ملزم فیضو کے گھر کے بیڈ سے سیمپلز لیے گئے تھے ، گرفتار ملزمان عبداللہ اور فیضو کے فنگر پرنٹس میچنگ رپورٹ پولیس کو موصول ہو ئی ، جس میں دونوں جگہوں سے لیے گئے سیمپلز میچ کر گئے ۔

ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ 4 ستمبر کو5 سالہ مروہ اپنے گھر سے دکان پر گئی اور لاپتہ ہوگئی ، جس کے بعد 6 ستمبر کی صبح ایک بجے کچرہ کنڈی سے بچی کی لاش ملی ۔ تفصیلات کے مطابق مروہ زیادتی کیس میں دونوں ملزمان فیض عرج فیضو اور ملزم عبداللہ کا ڈی این اے میچ ہونے کے بعد اب یہ کیس حل ہوچکا ہے ، کیونکہ دونوں ملزمان پہلے ہی اعتراف جرم کر چکے ہیں ، پولیس حکام کو صرف ڈی این اے رپورٹس کا انتظار تھا جو کہ آج موصول ہوگئیں ، اور اس کے ساتھ ہی دونوں ملزمان ڈی این اے میچ کرنے پر بھی قصور وار ثابت ہوچکے ہیں ، اب پولیس کی طرف سے ملزمان کی گرفتاری ظاہر کردی جائے گی ، جبکہ پولیس کی طرف سے دوران تفتیش حراست میں لیے گئے تیسرے ملزم نواز کو بے قصورقرار دیتے ہوئے رہا کردیا گیا ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ ملزم فیض عرف فیضو نے نشے کی حالت میں ننھی بچی مروہ کو اغوا کیا، اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی، جس کے بعد اس نے دوسرے ملزم عبداللہ کو بھی بلا لیا ۔ واضح رہے کہ گرفتار ملزم فیضو مروہ کے گھر سامنے رہتا ہے اور درزی کا کام کرتا ہے جبکہ دوسرا گرفتار ملزم عبداللہ افغانی کچرا چنتا ہے جوکہ افغانی شہری ہے ، فیضو نے مروہ کو اغوا کیا اور اپنے گھر کی چھت پر لے گیا تھا ، دونوں ملزمان نے گھر کی چھت پرمروہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ، مروہ کی لاش جس کپڑوں میں لپٹی ملی وہ فیضو اپنی دکان سے لایا تھا۔