مسلسل چھٹے ماہ ریکارڈ ترسیلات زر،وزیراعظم کا بیرون ملک پاکستانیوں سے اظہار تشکر


بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے مسلسل چھٹے ماہ ریکارڈ ترسیلات زر سامنے آگئی،اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے،گزشتہ ماہ کے دوران مزید 2 ارب 40 کروڑ ریکارڈ ڈالر پاکستان بھجوائے گئے جبکہ دسمبر میں ہی دو اعشاریہ تین ارب ڈالرز کی برآمدات ہوئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں یہ رقم 16 اعشاریہ 2 فیصد زائد ہے جبکہ ماہ نومبر کے مقابلے میں اس میں 4 اعشاریہ 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ریکارڈ ترسیلات زر پر وزیراعظم عمران خان نے خوشی کا اظہار کیا، عمران خان نے کہا کہ ریکارڈ 2.4ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہونے پر سمندر پار پاکستانیوں کا مشکور ہوں، پہلی مرتبہ مسلسل 6 ماہ تک 2 ارب ڈالرز سے زائد کی ترسیلات موصول ہوئی ہیں۔

الفا بیٹا کور کے چیف ایگزیکٹو خرم شہزاد نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات میں مسلسل اضافے کی وجوہات میں باقاعدہ قانونی ذرائع استعمال کرنا ہے، کیونکہ کورونا کی وجہ سے سفری پابندیاں ویسے بھی عائد ہیں جبکہ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر بھجوانے کا یہی رجحان برقرار رہا تو ایک سال میں 28 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہونے کا نیا ریکارڈ بن سکتا ہے۔

نجی ٹی وی کے میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں جہاں اس اچھی خبر پر بات کی وہیں بتایا کہ دسمبر میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، تجارتی خسارہ بتیس فیصدے سے بڑھ کر دو اعشاریہ چھ آٹھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے،جس کی وجہ دسمبر کے مہینے میں پانچ ارب ڈالر کی درآمدات ہے۔

شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں برآمدات میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا، اور درآمدات ایک اعشاریہ نوارب ڈالر سے بڑھ کر دو اعشاریہ تین ارب ڈالر ہوگئیں،یعنی درآمدات میں پچیس فیصد اضافہ ہوا،جو گزشتہ برس کے چار ارب ڈالر سے بڑھ کرپانچ ارب ڈالر ہوگئیں۔

شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ جولائی سے دسمبر کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے گیارہ اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ کر بارہ اعشاریہ چارارب ڈالر پر پہنچ گیا ہے،یعنی درآمدات میں اضافے کا رحجان برآمدات میں اضافے سے زیادہ ہے اور اگر معیشت میں بہتری آتی ہے تو درآمدات میں مزید اضافے کی وجہ سے ایکسٹرنل سیکٹر پر دباؤ آنے کا خدشہ ہے،تیل کی قیمتیں پچاس ڈالر سے اوپر جاچکی ہیں، ایل این جی مہنگی خریدی گئی ہے۔