مسلم لیگ ن ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کو تیار لیکن۔۔


مسلم لیگ ن ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کو تیار۔۔ فیصلہ مولانا فضل الرحمان پر چھوڑدیا

سینٹ الیکشن کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کااعلان حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کیلئے چیلنج بن گیا۔ پیپلزپارٹی ہر صورت الیکشن میں حصہ لینا چاہتی ہے بلکہ ضمنی الیکشن کیلئے پیپلزپارٹی نے ہی الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا جس کی وجہ پیپلزپارٹی یہ بتارہی ہے کہ اسکی تین صوبائی سیٹیں خالی ہیں۔ اگر ان پر الیکشن نہیں ہوتا تو پیپلزپارٹی ایک سیٹ سےمحروم ہوجائے گی۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن بھی ضمنی الیکشن میں حصہ لینا چاہتی ہے۔ پنجاب میں دو خالی سیٹیں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھیں جن میں ایک قومی اسمبلی اور ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ شامل ہے۔مسلم لیگ ن یہ سمجھتی ہے کہ وہ یہ سیٹیں آسانی سے جیت کر عوام کو بتاسکتی ہے کہ وہ عوام میں اب بھی مقبول ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) بطورپارٹی ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی خواہشمند ہے لیکن وہ پی ڈی ایم کے فیصلے کی پابند ہے تاہم حکومت کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ ضمنی انتخابات کے حق میں ہیں جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی مخالف ہیں ۔

ذرائع کے مطابق ااس حوالے سے ہم فیصلے پی ڈی ایم کے 2جنوری کو ہونے والے اجلاس میں متوقع ہیں۔جس میں ضمنی الیکشن میں حصہ لینے نہ یا نہ لینے کا فیصلہ ہوگا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی ضمنی انتخاب میں شرکت کے حوالے سے فضل الرحمن سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ مریم نوازنے ضمنی انتخابات میں شرکت کاحتمی فیصلہ مولانافضل الرحمٰن پرچھوڑ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کیلئے میدان خالی نہ چھوڑا۔ اگر حکومت کو خالی میدان مل گیا تو انہیں پنجاب میں ایک قومی اسمبلی اور ایک پنجاب اسمبلی کی سیٹ مل جائے گی اور انکی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ ن لیگی رہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں جلسوں اور ریلیوں میں حکومت مخالف بیانئے کو عوام تک پھیلا سکتے ہیں اور لوگوں کو موبلائز کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب ٹاک شوز میں ن لیگی رہنما ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق مختلف تاویلیں دیتے نظر آتے ہیں۔محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم ضمنی الیکشن میں حصہ لیں اور استعفے نہ دیں۔ ہمارے ممبران ضمنی الیکشن جیت کر کچھ دن بعد اپنا استعفیٰ دے سکتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما کہتے ہیں کہ ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ حکومت کو خالی میدان دینا ہے اور یہ ہماری بہت بڑی غلطی ہوگی۔