ملازمین کو برطرف کروانے کیلئے پی ٹی آئی ایم پی اے کی خاتون افسر کو دھمکیاں


اپر کوہستان سے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی نے 2 ملازمین کو برطرف کرنے کیلئے خاتون ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں، خاندانی ذرائع نے خاتون افسر کو ملنے والی دھمکیوں کی تصدیق بھی کردی ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اپر کوہستان سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے دیدار خان نے 2 ڈرائیورز کو برطرف کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوہستان یاسمین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، دباؤ میں آکر ڈی ای او نے دونوں ڈرائیورز کو برطرف کردیا ہے۔

ڈی ای او یاسمین نے ملازمین کو برطرف کرتے ہوئے خط کی کاپیاں متعلقہ حکام کو بھی ارسال کردیں جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ گزشتہ برس قتل ہونے والے کوہستان کے سابقہ ڈی ای او نواب علی کو بھی اس قسم کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

انہوں نے خط میں مزید کہا کہ ان کے متعلقہ دفاتر میں 2 ڈرائیورز کی آسامیاں کافی عرصے سے خالی تھیں جن پر بھرتیاں کی گئیں ، علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی محمد دیدار خان نے دونوں ملازمین کو برطرف کرنے کیلئے دباؤ ڈالا،ٹیلی فون پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کی ایک مثال سابق ڈی ای او کے قتل میں بھی دی گئیں، اس صورتحال میں دونوں بھرتیوں کے احکامات واپس لیے جاتے ہیں

صوبائی حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیدیا ہے، صوبائی وزیر تعلیم شہرام ترکئی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی باقاعدہ انکوائری سیکرٹری اینڈ ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کریں گے اور اس کیلئے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایم پی اے دیدار خان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں بھرتیاں غیر قانونی تھیں میں اپنے حلقے میں کسی بھی غیر قانونی کام چلنے نہیں دے سکتا، خاتون افسر کو دونوں ملازمین کی غیر قانونی بھرتی ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا ان کے پاxمیری دھمکیوں کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائیں۔