ملک ریاض کی ڈھائی ارب روپے ماہانہ جرمانے کی ادائیگیاں مؤخر کروانے کیلئے درخواست

21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے 16 ہزار 896 ایکڑز اراضی کی خریداری کے لیے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے ادائیگی کی پیشکش قبول کی تھی۔

مگر اب بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث متاثر ہوئے کاروبار کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کے جاری کردہ پلان کو منجمد کرنے کی درخواست کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈھائی ارب روپے کی ماہانہ قسطوں کی ادائیگی کو 3 سال کیلئے 2023 تک موخر کیا جائے۔

درخواست میں کورونا وائرس کے پاکستان اور دنیا بھر کی ملٹی نیشنلز پر پڑنے والے بڑے اثرات کو بیان کیا گیا ہے، عدالت کے پہلے حکم کی تعمیل میں بحریہ ٹاؤن کم ہوتے بیلنس کی بنیاد پر جمع کروائی گئی پیشگی رقم پر حاصل ایک ارب 20 کروڑ روپے کے مارک اپ کے علاوہ پہلے ہی 57 ارب روپے ادا کرچکا ہے۔

درخواست کے مطابق ڈھائی ارب روپے کی ماہانہ ادائیگی کے لیے بحریہ ٹاؤن کو مہینے میں اوسطاً 25 کام کے دنوں کی بنیاد پر یومیہ 10 کروڑ روپے کمانے ہوتے ہیں، جو عام حالات میں بھی ایک بہت بڑا کام ہے اور بحریہ ٹاؤن کراچی اسے بہرحال پورا کر رہا ہے۔

درخواست میں وکیل علی ظفر کی جانب سے کہا گیاہے کہ ان کے موکل کی جانب سے چلائے جانے والے کاروبار کو وبا نے متاثر کیا ہے کیونکہ اس وبا سے منسلک معاشی سرگرمیوں کی بندش کے نتیجے میں منفی نمو ریئل اسٹیٹ سیکٹر سمیت پاکستان کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

لہٰذا پلان کو منجمد کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ ڈھائی ارب روپے کی ماہانہ قسطوں کی ادائیگی کو 3 سال کیلئے 2023 تک موخر کیا جائے۔