ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا،اسٹیٹ بینک نے خبردار کر دیا


رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو 1.5 فیصد سے 2.5 فیصد رہنے کی توقع ہے،اسٹیٹ بینک نے معاشی شرح نمو کے لیے 2.1 فیصد کا ہدف مقرر کرلیا، گذشتہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی تھی، مہنگائی مییں اضافے کی شرح 6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مشکل ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی ( جولائی تا ستمبر ) کی معاشی جائزہ رپورٹ جاری کردی،جس کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی میں 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوگا، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ کی توقع ہے، رواں مالی سال ترسیلات کی مالیت 25 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک بلند ہوسکتی ہے، برآمدات 24 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 44 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے۔


اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی خسارہ اور جاری کھاتے کا خسارہ ہدف سے بھی کم رہنے کی توقع ہے، مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد سے 7.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے،جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 0.5 سے 1.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کارکنوں کی ترسیلات زر کی مضبوطی، برآمدات کی بحالی اور خدمات کی کم درآمدات کی وجہ سے مالی سال20ء کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں جاری کھاتے میں فاضل درج کیا گیا، پاکستان ریمی ٹینس انی شیٹو کے تحت مسلسل پالیسی اقدامات اور باضابطہ اور ڈیجیٹل ذرائع کے فروغ نے ترسیلاتِ زر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

برآمدی وصولیاں گذشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کی کم سطح کے مقابلے میں بحال ہوئیں،کاروباری اداروں نے کاروباری بحالی کی اسکیم کے تحت 24دسمبر2020 ء تک بڑھ کر 263.8ارب روپے کی فنانسنگ حاصل کی،روزگار اسکیم کی رقم13نومبر2020ء تک بڑھ کر238.2 ارب روپے ہو گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی معیشت کووڈ سے پہلے کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو رہی ہے،پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں تھی، حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کووڈ بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مربوط معاشی پالیسی اقدامات سے بحران کے شدید اثرات کو کم رکھنے اور معاشی بحالی کی بنیادیں رکھنے میں مدد ملی۔

کورونا کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی سفر پر عائد پابندیوں سے بھی ترسیلات زر کا رخ بے ضابطہ کے بجائے باضابطہ ذرائع کی جانب موڑنے میں مدد ملی، پاکستانی خدمات کی درآمدات کی سطح میں کمی واقع ہوئی،تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی وجہ سے پہلی سہ ماہی کے دوران درآمدی ادائیگیاں گذشتہ سال کے مقابلے میں قدرے کم رہیں۔