ملیر ضمنی الیکشن، عام انتخابات اور موجودہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کیسی رہی ؟ تفصیلات جانئے


کراچی   کراچی پی ایس88 میں ہونے والےضمنی انتخاب کا مکمل غیر سرکاری نتیجہ نشر کر دیا گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے یوسف مرتضیٰ بلوچ 24 ہزار 251 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔فروری 2021ء کے ضمنی الیکشن اور 2018 ءکےعام انتخابات میں کیا فرق رہااورماضی کی نسبت کس جماعت نےبہترکارکردگی کامظاہرہ کرتےہوئےاپنےووٹ بینک میں اضافہ کیا؟2018 ءکےعام انتخابات میں دوسرےنمبرپر رہنےوالی تحریک انصاف کےامیدوارنےضمنی الیکشن میں کتنےووٹ حاصل کئےاوراب کون سی جماعت کاامیدوار دوسری پوزیشن حاصل کرنےمیں کامیاب ہوا ؟تمام تفصیلات”ڈیلی پاکستان”کی اس خصوصی رپورٹ میں جانئے۔

تفصیلات کےمطابق سندھ میں ہونےوالےضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نےکامیابی اوراپنے ووٹ بینک میں اضافہ کرکے ناقدین کو حیران کردیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے مرحوم رہنما غلام مرتضیٰ بلوچ نے 2018ء کےعام انتخابات میں اسی حلقے سے 22ہزار پانچ سو چھپن ووٹ لئے تھے جبکہ فروری 2021 کے ضمنی انتخاب میں ان کے صاحبزادے یوسف مرتضیٰ بلوچ نے 24 ہزار دو سو 61 ووٹ حاصل کئےاور اپنے والد کے ووٹوں سے ایک ہزار سات سو پانچ اضافی ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔

2018ء کےعام انتخابات میں اس حلقہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد رضوان خان16 ہزارتین سو 86 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے جبکہ فروری 2021ء کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور پی ٹی آئی کے امیدوار جان شیر جونیجو محض چار ہزار آٹھ سو 70 ووٹ حاصل کر سکے اور تیسرے نمبر پر رہے ۔یوں عام انتخابات کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار نے 11ہزار پانچ سو سولہ ووٹ کم حاصل کئے اور حلقے کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔

پی ایس88کےضمنی انتخاب میں سب سےحیران کن کارکردگی ٹی ایل پی نےدکھائی اوراس مذہبی تنظیم کےامیدوارکاشف علی شاہ راشدی چھ ہزار 90 ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن پر براجمان ہوئے تاہم عام انتخابات میں اسی حلقے سے تحریک لبیک کے امیدواررضوان احمد نےسات ہزارچھ سو چورانوےووٹ حاصل کئےتھے،یوں ٹی ایل پی نے2018ءکی نسبت ضمنی الیکشن میں ایک ہزار604 ووٹ کم حاصل کئے ۔

2018ء کےانتخابات میں اس حلقہ سےایم کیو ایم پاکستان کےامیدوارسیدابو الحسن نے5ہزاردو سو سات ووٹ حاصل کئےجبکہ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم کے امیدوارساجد احمد محض دو ہزار چھ سو 34 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔2018ءمیں اس حلقہ سے جی ڈی اے کے امیدوار محمد یعقوب تھے جنہوں نے دو ہزار سات ووٹ حاصل کئے تھے ،پاک سرزمین پارٹی کےفرحان جاوید نے عام انتخابات میں محض 972 ووٹ حاصل کئےتھےجبکہ ضمنی الیکشن میں مصطفیٰ کمال نے میدان خالی چھوڑا ہوا تھا اور کوئی بھی امیدوار انتخابی اکھاڑے میں نہیں اتارا تھا ۔

ضمنی الیکشن میں اس حلقے میں 16 امیدوار آزاد حیثیت سے قسمت آزمائی کے لئے میدان میں اترے تاہم یہ 16 امیدوار مجموعی طور پر ایک ہزار پانچ سو دو ووٹ ہی حاصل کر سکے،2018 کے انتخابات میں اس حلقہ سے نو آزاد امیدوار میدان میں اترے تھے جنہوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار چھ سو 89 ووٹ حاصل کئے تھے۔یوں پی ایس88کےضمنی انتخاب میں سندھ کی حکمران جماعت واحد سیاسی پارٹی تھی جس کے امیدوار نے2018ء کے انتخابات کے مقابلے میں ماضی کی نسبت اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی سیٹ کا شاندار دفاع کیا ہے۔