مودی سرکار کیخلاف کسانوں کی تحریک زورپکڑنا شروع، اروندکیجریوال نظربند

مودی سرکار کیخلاف کسانوں کی تحریک ملک بھر میں پھیل گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں، ریلوے ورکرز، ٹرک ڈرائیورز، اساتذہ اور مزدور یونینز نے بھی ’بھارت بند‘ کی حمایت کر دی ۔

بھارتی کسانوں نے دہلی کا گھیراؤ کرلیا ہے۔ مشرقی اور مغربی ریاستوں میں تمام سڑکیں اور ریلوے ٹریکس بھی بلاک ہیں۔کسانوں نے مارکیٹوں کو آنے اور جانے والے راستے ٹریکٹر لگا کر بند کیے ہوئے ہیں۔

دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال کی عام آدمی پارٹی ، کانگریس سمیت بھارت کی چودہ سیاسی جماعتوں نے کسانوں کی حمایت کر دی ہے۔جبکہ پنجابی فلموں کے بھارتی اداکاروں کے بعد راجھستان، بہار سے تعلق رکھنے والے اداکار بھی تحریک کی حمایت میں میدان میں آگئے ہیں۔

بھارتی پولیس نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو نظر بند کر دیا ہے۔ اروند کیجریوال نے کسانوں سے ملاقات کی تھی اور انکی مکمل حمایت کی تھی۔

اروند کیجریوال نے مودی کی حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت نے کسانوں کو جیلوں میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی جس پر عمل نہیں کیا گیا اور مجھے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔

عالمی میدیا کے مطابق پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش میں بھی اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ جبک دوسری جانب کسانوں او رپولیس میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کے درالحکومت دہلی کے باہر کئی ہفتوں سے کسان حکومت کی زرعی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں۔وزیرداخلہ امیت شاہ کے ساتھ کسانوں رہنماؤں نے متعدد بار مذاکرات بھی کیے جو ناکام رہے ہیں۔

حکومت احتجاجیوں کو دہلی کے اسٹیڈیم میں بیٹھنے کا کہہ رہی تاکہ کاروبار زندگی متاثر نہ ہو جب کہ مظاہرین کا خیال ہے کہ مودی سرکار اسٹیڈیم کو جیل میں تبدیل کرکے انہیں نظربند کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے ستمبر کے مہینے میں جب سے رزعی شعبے میں قوانین متعارف کروائے ہیں، اس کے بعد سے کسان اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور ہزاروں کسانوں نے دارالحکومت دہلی میں داخل ہونے والے راستوں پر دھرنا دے رکھا۔ کسانوں کے اس دھرنے کو ملک کی 24 مختلف پارٹیوں نے حمایت دی ہے جن میں اہم علاقائی جماعتیں بھی شامل ہیں جن کی مختلف ریاستوں میں حکومتیں ہیں۔

کسانوں کا موقف ہے کہ بڑی بڑی کارپوریشنز قیمتیں کم کردیں گی اور ان کا روزگار تباہ ہوجائے گا’ہم پریشان ہیں، مودی سرکار کے اس اقدام سے ہم اور ہمارے بچے بھوک سے مر جائیں گے، اس سے بڑی پریشانی اور کیا ہوسکتی ہے۔

کسانوں کا کہنا تھا کہ ان کی صنعت کو بڑی کمپنیاں قبضے میں لے لیں گی جو قیمتوں کو کم کرنے پر مجبور کریں گی۔

سونی پت زرعی مارکیٹ تاجروں کی ایسوسی ایشن کے صدر پاون گوئل نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت کچھ کمپنیوں خواہ وہ بھارتی ہوں ہو یا غیر ملکی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کسانوں کو گمراہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ قانون مستقبل میں جاری رہتا ہے تو کسان، مزدوروں تک محدود ہوجائیں گے اور صرف بڑی کمپنیوں کے ورکرز بن جائیں گے۔

تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ یہ تبدیلیاں زراعت کے لیے ضروری ہیں جو اب تک بھارت کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔