مودی کادورہ بنگلہ دیش، پر تشدد مظاہرے و جھڑپوں میں 4افرادجاں بحق


بنگلہ دیش میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متوقع دو روزہ دورے کے خلاف ڈھاکہ میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں تین مدرسے کے طاب علموں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متوقع دورے کے خلاف طلبہ سمیت شہریوں کے شدید احتجاج جاری ہے۔

ہزاروں طلبا سڑکوں پر نکل آئے اور نریندر مودی کیخلاف احتجاج کیا، مظاہرے کے دوران پولیس اور طلبا میں جھڑپوں بھی ہوئیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج سے30 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن کو ہسپتال منتقل کردیاگیاادھرطلبا کی جانب سے پتھراﺅ چارپولیس اہلکار زخمی ہو گئے ،پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 33 طلبا کو حراست میں لے لیا۔
مظاہرین نے الزام عائد کیاگیا ہے کہ 2002 میں گجرات فسادات میں ہندوﺅں نے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید اور زخمی کیا۔

معروف صحافی عیسیٰ نقوی نے مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بنگالیوں نے 50 سال بعد تاریخ دہرادی اور بھارت کیلئے اپنے ہی لوگوں پر گولیاں برسادیں

عیسیٰ نقوی کے مطابق نریندرمودی بنگلہ دیش پہنچے تو بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے انکا استقبال کیا، نریندرمودی نے 6 سے 7 بار اعتراف کیا کہ بھارت نے بنگلہ دیش کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا، مکتی ماہنی بنائی اور پاکستان سے لڑنے کیلئے انہیں ٹریننگ دی۔ ایک بار پھر نریندرمودی نے تسلیم کیا کہ بھارت کا پاکستان کو توڑنے میں کردار تھا۔

عیسیٰ نقوی نے بنگلہ دیش میں مظاہروں کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سب منصوبہ بندی سے کیا گیا، عوامی لیگ کے ورکرز نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طلباء کا راستہ روکا۔ عوامی لیگ کے کچھ رہنماؤں اور عوامی لیگ سٹوڈنٹس ونگ نے ان کا کالزام بھی پاکستان پر لگانے کی کوشش کی۔ عیسیٰ نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے طلباء پر پہلے ربڑکی گولیاں اور آنسو گیس برسائی جس سے 40 سے زائد طلباء زخمی ہوئے اور بعدازاں تصادم کی صورتحال پیدا ہوگئی اور طلباء کے ہاتھ جو بھی آیا پولیس پر پھینکتے رہے۔