مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کا پیپلز پارٹی کے یک طرفہ فیصلوں پر مایوسی کا اظہار


چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری میثاق پاکستان پر دستخط کرکے فیصلوں سے پیچھے ہٹ رہے،مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز نے گزشتہ رات ہونے والی ملاقات میں پیپلز پارٹی کے یک طرفہ فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کردیا، مریم نواز کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، ملاقات پر بلاول بھٹو کے فیصلوں پر تنقید کی گئی ہے۔

ن لیگ اور جمیعت علما اسلام نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول نے خود میثاق پاکستان پر دستخط کیے اب فیصلوں سے ہٹ رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل سربراہ اجلاس میں پیپلز پارٹی سے دو ٹوک بات ہوگی، استعفے سینیٹ الیکشن کے بعد دیئے جائیں۔

پی ڈی ایم سربراہ نے محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات پر اظہار ناراضگی کی، مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف سے شکوہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف لڑ رہے ہیں شہباز شریف ان کے نمایندوں سے مل رہے ہیں،جب طے ہے کہ حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے تو پھر بیک ڈور رابطے کیوں ہیں؟

نواز شریف نے جواب دیا کہ شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات پر آپ پریشان نہ ہوں وہ وہی کرینگے جو پی ڈی ایم کا فیصلہ ہوگا، ن لیگ کا اعتراض اٹھایا کہ آصف زرداری کے بھی تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں، فضل الرحمان نے جواب دیا کہ ہم کل کھل کر بات کرینگے، اپنی الگ اینٹ کی مسجد جس نے بنانی ہے وہ پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہے گا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے درمیان ملاقات میں حکومت کیخلاف آئندہ حکمت عملی پر غور کیا گیا، لیگی وفد میں احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، پرویز رشید، خرم دستگیر، کیپٹن صفدرریٹائرڈ اور مریم اورنگزیب نے بھی شرکت کی،ملاقات میں خواجہ آصف کی گرفتاری، استعفوں، سینیٹ الیکشن، پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت ہوئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل خواجہ آصف کی گرفتاری ہوئی تو سوچا کہ مریم نواز کے ساتھ گفتگو ہو،مریم کو یوم تاسیس پر بھی مبارکباد دی، نواز شریف کو دعوت دی تھی کہ وہ وڈیو لنک پر ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں،یہ میٹنگ ایک غیر رسمی تھی جس میں کھانے کے ذائقوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری انتقامی سیاست کا تسلسل ہے اور ایسا نہیں کہ یہ آرام سے لوگوں کو پکڑتے جائیں اور ہم کچھ نہ کہیں ، ہم اس گرفتاری پر عملی ردعمل پر بھی مشاورت کریں گے،پی ڈی ایم کا مستقبل جمہوریت ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی ہے،

گرفتاریاں چھوٹی باتیں ہیں اب انقلاب کی طرف ہم جارہے ہیں، ہم نے ان کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا، دو دن قبل گڑھی خدابخش آنےکی دعوت ملی لیکن مصروفیات کی بناء پر نہ جاسکا، کارساز اور ملتان کے جلسے میں شریک ہوا توبینظیر کے جلسےمیں کیوں شریک نہیں ہوسکتا۔

لیگی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر دعوت دی اور بہت ہی ذائقہ دار کھانا کھلایا، نوازشریف بھی ویڈیو لنک سے دعوت کے دوران شریک ہوئے،بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں جو کہا وہ اچھی باتیں تھیں،

انہوں نے کہا کہ سی ای سی میں جو تجاویز آئیں وہ پی ڈی ایم میں رکھی جائیں گی،پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں بلاول بھٹو کا مؤقف سنناچاہتی ہیں اوراس کےبعدکوئی فیصلہ ہوگا، پی ڈی ایم میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مکمل مشاورت سے ہوگا،میاں نوازشریف کا پاسپورٹ اگر منسوخ ہوگا تو ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

اپوزیشن اتحاد کا اہم سربراہی اجلاس یکم جنوری کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ہوگا۔