مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکتے تو ہمیں گھبرانے کی اجازت ہی دیدیں، لائیوکالر


مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکتے تو گھبرانے کی اجازت ہی دے دیں، لائیوکالز پر وزیراعظم پر تابڑ توڑ حملے

وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پرعوام سے براہ راست گفتگو کی اور عوامی مسائل سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کروائی، عوام نے وزیراعظم سے سوالات کئے، اس دوران اسلام آباد کی عنبرین نے وزیراعظم کو مشکل میں ڈال دیا، اور وزیراعظم کے مشہور الفاظ آپ نے گھبرانا نہیں ہے کا استعمال کرتے ہوئے مہنگائی کا شکوہ کیا، خاتون نے کہا کہ اب تو ڈالر کی قدر میں کمی ہورہی اور روپیہ مستحکم ہورہاہے لیکن مہنگائی کم نہیں ہورہی، اگر مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکتے تو ہمیں گھبرانے کی اجازت ہی دی دیں۔

جس پر وزیر اعظم پہلے مسکرائے پھر جواب میں مہنگائی کنٹرول کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 70 فیصد دالیں امپورٹ کررہے ہیں، ملک میں مڈل مین کی زیادہ منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی ہے، ایسا نظام لارہے ہیں کہ کسان براہ راست منڈیوں تک چیزیں پہنچائیں، معیشت کی بہتری کی وجہ سے روپیہ بھی مستحکم ہواہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہماری ساری توجہ صرف مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہے، مہنگائی کی وجہ جاننے کے لئے کام ہورہا ہے اور ہم قابو کرکے دکھائیں گے۔

صحت کے شعبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب لارہے ہیں،پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سے لوگ علاج کراسکیں گے، پختونخوامیں تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا گیا ہے، پنجاب میں بھی تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جارہے ہیں، ہیلتھ کارڈکی سہولت ترقی یافتہ ملکوں میں بھی نہیں۔ اس کے علاوہ ہم اوقاف ، متروکہ وقف املاک اور سرکاری زمینوں پراسپتال بنوائیں گے۔

چینی مافیا کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ چینی مافیا عوام کا خون چوس کرپیسابناتا ہے،تاریخ میں پہلی بارچینی مافیاکےخلاف انکوائری ہوئی،چینی مافیا کےلوگ اداروں میں بھی بیٹھے ہیں۔

قبضہ مافیا کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا ملک کا سب سے بڑا عذاب بنا ہوا ہے،قبضہ مافیا حکمرانوں سے مل کر قبضے کرتا ہے،ڈھائی سال میں ساڑھے 4 سو ارب کی زمین واگزارکروائی،پہلی مرتبہ حکومت ، قبضہ مافیا کی پشت پر نہیں ہے،قبضہ مافیا کےعلاوہ سیاسی لوگوں نے قبضے کئے ہیں۔

لائیو کال لینے سے قبل وزیراعظم نے عوام کو پیغام دیا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں پاکستان کو اللہ نے زیادہ نقصان سے بچایا، کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا صورتحال کہاں تک جا سکتی ہے۔ایسی صورت میں ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یورپ میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاوَن کیا گیا ہے، ہم لاک ڈاوَن نہیں کررہے، فیکٹریاں بھی کھلی ہیں، اللہ نہ کرے اگرحالات زیادہ خراب ہوجائیں تو پھر ہم بھی مجبور ہوجائیں گے، باقی دنیا میں جہاں بھی لاک ڈاؤن لگا وہاں سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوئے،ماسک پہننا سب سے آسان ہے، ماسک لازمی پہنیں اور پہلے سے زیادہ احتیاط کریں،خدانخواستہ کورونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن کرنا پڑیگا۔