’میرا اس سے خفیہ نکاح ہوا تھا، وہ سب کو بتانا چاہتی تھی‘ نمل یونیورسٹی کی طالبہ کائنات کے قتل کے ملزم کا انکشاف

اسلام آباد نمل یونیورسٹی کی طالبہ اور ریڈ کراس میں ملازمت کرنے والی کائنات طارق کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم نے اس کے ساتھ خفیہ نکاح کا اعتراف کر لیا اور قتل کی وجہ بھی بتا دی ہے۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق کائنات طارق کے قتل کے کیس میں اسلام آباد پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کر لی ہے۔ اس دوران ملزم خالد بن مجید نے پولیس کو بتایا کہ اس نے کائنات طارق کے ساتھ خفیہ نکاح کر رکھا تھا جسے وہ منظرعام پر لانا چاہتی تھی۔

مجید نے بتایا کہ کائنات لاہور کے دارالامان میں رہائش پذیر تھی جہاں سے اس نے آن لائن جاب کے لیے درخواست دی۔ مجید نے اسے انٹرویو کے لیے بلایا اور اسے نوکری کے لیے منتخب کرکے اسلام آباد منتقل ہونے کو کہا۔ وہاں اس کا کائنات کے ساتھ معاشقہ شروع ہوا اور دونوں نے خفیہ نکاح کر لیا۔ ان کے دو دوست اس نکاح کے گواہ تھے۔ پولیس کے مطابق مجید اور کائنات کے نکاح کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملاکیونکہ نکاح رجسٹرنہیں کرایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مجید نے ہی کائنات کو نمل یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا اور وہاں خود کو کائنات کا بھائی ظاہر کیا۔ اس نے کائنات کو اپنی ہنڈا کار بھی دی۔ مجید نے پولیس کو بتایا کہ میرا کائنات کو اپنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے صرف اس کی تسلی کے لیے اس کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ جب اس نے نکاح کو منظرعام پر لانا چاہااور میں نے انکار کیا تو اس نے خودکشی کر لی۔