میں ترکی اور چین سے دوستی کا بہترین سفیر تھا،شہباز شریف کا عدالت میں بیان


لاہور کی احتساب عدالت میں شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت جج جواد الحسن نے کی۔

اپوزیشن لیڈر نے عدالت میں پیشی کے موقع پر لاہور میں صفائی کی صورتحال پر کہا کہ ایل ڈبلیو ایم سی سے متعلق خبریں آ رہی ہیں۔ میں نے اس ٹھیکے میں پنجاب کے 107 ملین ڈالر بچائے، میں ترکی اور چین سے دوستی کا بہترین سفیر تھا۔

شہباز شریف نے کمرہ عدالت میں کہا کہ میں پنجاب میں صفائی کا بہترین نظام لے کر آیا جس میں قوم کا ایک ایک پیسہ بچایا گیا۔ کیونکہ قوم کو بنانے کے لیے بڑی محنت اور بچت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ معاہدہ ہونے کے بعد واپس ہو گیا ہو۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا تحفہ ترکی کے عجائب گھر میں پڑا ہوا ہے وہ کسے دیا تھا؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ ویسٹ منیجمنٹ کے معاہدے کے نتیجے میں 107 ملین ڈالر بچائے تھے، اتنی بڑی بچت کے نتیجے میں تحفہ دینا مہنگا نہیں ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ میری میڈیکل رپورٹس نہیں آئیں ان کے لیے حکم صادر فرما دیں۔

یاد رہے کہ شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے نصرت شہباز، رابعہ عمران، سلمان شہباز سمیت6 ملزموں کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عدالت آمد پر لیگی کارکنوں نے ان کے حق میں نعرے بلند کیے، پولیس اہلکاروں اور لیگی عہدیداروں کے درمیان بحث ہوئی۔ مریم اورنگ زیب، عطااللہ تارڑ، شائستہ پرویز ملک، عظمیٰ بخاری، غزالی سلیم بٹ و دیگر رہنما بھی متعدد کارکنوں کے ہمراہ عدالت پہنچے تھے۔