نجم سیٹھی کا سرکاری زمین پر قبضے کا انکشاف،کیسے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے رہے؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار نجم سیٹھی اور لوک ورثہ اسلام آباد کے درمیان لیز کا معاہدہ منظر عام پر آ گیا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ ایک چوری کا ایک روایتی طریقہ ہے جس میں اثرو رسوخ رکھنے والی کالی بھیڑیں حکومت کو لوٹ کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

یہ قصہ 1996 میں شروع ہوا جب نجم سیٹھی اس قدر بااثر تھے کے ملک معراج خالد کی نگران کابینہ کا حصہ بنے اسی دوران انہوں نے اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں یہ پراپرٹی 50 ہزار روپے ماہانہ کی لیز پر حاصل کی اور یہاں کتابوں کی دکان بنائی جسے وینگارڈ بُکس کا نام دیا گیا۔

2001 میں اس لیز کے معاہدے کو معمولی اضافے کے ساتھ 2006 تک توسیع دے دی گئی، 2006 میں دوبارہ خالی کرانے کےلیے انتظامیہ کی جانب سے نوٹس دیا گیا مگر نجم سیٹھی نے بیک ڈور رابطوں اور اپنے صحافتی اثرو رسوخ کی مدد سے اس معاہدے میں 2009 تک توسیع کرا لی۔

2009 میں ایک بار پھر سے انہیں اس جگہ کو خالی کرنے کیلیے نوٹس دیا گیا مگر انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور اس کے بعد کوئی عملی اقدام نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لیز کے بغیر انہوں نے اس جگہ پر قبضہ کر لیا جس کے بعد کچھ عرصے تک وہ لیز کے اس معاہدے میں پھر سے توسیع حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس سرکاری زمین کے حوالے سے ہونے والا آخری معاہد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ہوا جو کہ فروری2020 تک کے لیے تھا اور اس لیز کیلئے اب نجم سیٹھی ماہانہ2 لاکھ 32 ہزار روپے ادا کر رہے تھے جبکہ اسلام آباد کے پوش ایریا ایف6 میں اس زمین کی لیز کی ویلیو25 لاکھ روپے ماہانہ ہے۔


لوک ورثہ انتظامیہ نے9 مارچ 2017 کو نجم سیٹھی کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ معطل کر دیا تھا جس کے لیے لوک ورثہ انتظامیہ نے 15 نومبر2018 کو لیگل نوٹس بھیج کر آگاہ کیا جس پر نجم سیٹھی کے وکلا کی جانب سے لیگل نوٹس پر اسٹے آرڈر لے لیا گیا، حالانکہ اس معاہدے کی میعاد فروری 2020 میں ختم ہو چکی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد 2019 میں اس جگہ کو خالی کرانے کے لیے نوٹس بھیجا گیا کیونکہ لوک ورثہ کو یہ جگہ اپنے ثقافتی مرکز کے قیام کیلئے درکار تھی مگر اس بار بھی نجم سیٹھی کی جانب سے انکار کر دیا گیا اور اس طرح انتظامیہ نے محسوس کیا کہ اس معاہدے کے تحت خزانے کو 20 لاکھ روپے تک کا ماہانہ نقصان ہوتا آ رہا ہے۔

لوک ورثہ نے اس زمین کو خالی کرانے اور کرائے میں اضافے کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے اجازت طلب کی تو درخواست غیر ضروری ہو گئی کیونکہ سرکاری عمارتوں پر کرایہ کی پابندی کا قانون لاگو نہیں ہوتا، اس کے بعد لوک ورثہ نے پھر سے نجم سیٹھی کو یہ زمین خالی کرنے کیلئے نوٹس بھیج دیا۔

24 سالوں کے دوران اس معاہدے کے ذریعے خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس طرح اثرو رسوخ رکھنے والے لوگ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک معاشی طور پر غیر استحکام کا شکار ہی رہتا ہے۔