نفرت انگیز تقریر: محمود اچکزئی ذاتی حیثیت میں عدالت طلب


لاہور کی سيشن کورٹ نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

بدھ 23 دسمبر کو محمود اچکزئی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست ہو اسے سننا ضروری ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنايا کہ محمود خان اچکزئی نے 13 دسمبر کے جلسے میں نفرت انگیز تقریر کی اور لسانیت پھیلانے کی کوشیش کی۔

عدالت نے حکم ديا کہ محمود خان اچکزئی آئندہ سماعت پر ذاتی حيثیت میں یا وکالتاً پیش ہوں۔

لاہور میں پی ڈی ایم جلسے کے دوران محمود اچکزئی نے پاکستان بننے کے بعد کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی جس میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے کردار اور چھوٹے صوبوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا۔

تقریر کے آخر میں انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھ کر پنجاب کو یقین دلایا کہ جمہوریت کی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور ووٹ کا تقدس بحال کرنے کی جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

محمود خان اچکزئی کی تقریر کے بعد مریم نواز سمیت پنجاب کے دیگر قائدین نے خطاب کیا مگر انہوں نے ان تاریخی حقائق کے بارے میں بات نہیں کی اور نہ ہی محمود خان اچکزئی کے تاریخی حوالوں کی تردید کی۔