نوازشریف کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی کا آغاز


لاہور کی احتساب عدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

عدالت نے اشتہاری قرار دلوانے کے لیے نیب سے ابتدائی رپورٹ طلب کرلی۔احتساب عدالت کے جج اسد علی نے نواز شریف سمیت دیگر کے خلاف پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی کیا رپورٹ آئی ہے جس پر نیب افسر نے بتایا کہ نواز شریف کے وارنٹ لندن میں ان کی رہائش گاہ پر وصول کرا دیئے ہیں، نواز شریف جان بوجھ کر ریفرنس کا سامنا نہیں کر رہے۔

جس پر عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق نواز شریف کے خلاف اشتہاری کی کاروائی شروع کی جاتی ہے۔

عدالت نے نیب سے نواز شریف کو اشتہاری قرار دلوانے کی ابتدائی رپورٹ طلب کر لی۔ احتساب عدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس پر مزید کارروائی 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں انہیں اشتہاری قرار دینے سے متعلق کارروائی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ روز سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے سخت ریمارکس میں کہا کہ ملزم حکومت اور عوام کو دھوکہ دے کر لندن گیا، اور لندن بیٹھ کر عوام اور حکومت پر ہنستا ہوگا، کل نواز شریف واپس آکر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے وارنٹ گرفتاری کا علم نہیں۔

جسٹس کیانی کا مزید کہنا تھا کہ مجرم نوازشریف کا رویہ انتہائی شرمناک ہے، ان کا بیرون ملک جانا پورے نظام کی تضحیک ہے، آئندہ وفاقی حکومت کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کیسے کسی کو باہر جانے دینا ہے۔