نیا سیاسی بھونچال: بلوچستان عوامی پارٹی کیا کرنے جارہی ہے؟

Set featured image
اسلام آباد: وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد تحریک جمع کئے جانے کے بعد سیاسی طوفان آچکا ہے اور حکومتی کیمپ میں ہلچل مچی ہوئی ہے، ایسی صورت حال میں حکومتی اتحادی بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف بھی عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کی جارہی ہے اور اس پر ہوم ورک شروع کیا جاچکا ہے، جس کا آغاز بلوچستان سے ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی اکثریت اپوزيشن کا ساتھ دینے کو تیار ہے، بی اے پی کے ایم پی ایز کی اکثریت پی ڈی ایم کو ساتھ دینے کا یقین دلا چکی ہے۔

ادھر پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ اور ایم کیوایم کی جانب سے اپوزیشن کا ساتھ دینے کےاعلان کا انتظار ہے، دونوں جماعتوں کے اعلان کے ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد آجائےگی۔

پی ڈی ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو بھی تبدیل کرنے پر سنجیدہ غور شروع کردیا گیا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں جے یو آئی، بی این پی مینگل، اے این پی اور یار محمد بلوچستان میں حکومت بنائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے قبل حکومت کو بڑا دھچکا ملا ہے، مسلم لیگ (ق) سے سات اراکین قومی اسمبلی نے خفیہ ملاقات کی اور (ق) لیگ کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ایم این ایز نے گذشتہ تین روز کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ اور صدر مسلم لیگ (ق) چوہدری شجاعت سے ملاقات کی، کن کن ارکان اسمبلی نے قاف لیگی قیادت سے خفیہ ملاقاتیں کیں؟ فی الحال نام سامنے نہیں آسکے ہیں۔