نیب کی غفلت کی وجہ سے پاکستان لندن میں براڈ شیٹ کیس ہار گیا،اربوں کا جرمانہ عائد


پاکستان لندن کی مصالحتی عدالت میں براڈ شیٹ کیس ہار گیا، 4 ارب 58 کروڑ جرمانہ ادا کرنا پڑا

2018میں نیب کو براڈ شیٹ سے معاہدہ ختم کرنے پر 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جرمانہ ہوا تھا۔ نیب نے وزارت قانون کی ہدایت کے برعکس 2 سال تک جرمانہ ادا نہ کیا، جرمانہ ادا نہ کرنے پر دو سال میں سود بھی شامل ہو گیا۔ مصالحتی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدم ادائیگی پر اکاؤنٹ منجمد کرکے رقم یک طرفہ طور پر منہا کی جائے۔

خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ نیب نے رقم ادا نہ کی جس کے باعث عدالت کے حکم پر لندن میں پاکستانی سفارتخانے کے اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے۔ دوسری جانب ترجمان پاکستانی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹس منجمد نہیں ہوئے۔ عدالت نے دو کروڑ 9 لاکھ ڈالر 30 دسمبر تک ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اب لندن ہائی کورٹ میں طویل عرصے سے زیر سماعت مقدمہ ہارنے کے بعد پاکستان ہائی کمیشن نےنیب کی طرف سےاثاثہ ریکوری فرم براڈشٹ ایل ایل سی کو 28.7ملین ڈالرز(4 ارب 58 کروڑ پاکستانی روپے) کی ادائیگی کردی ہے۔

17سال قبل متعدد پاکستانیوں کےمبینہ غیر ملکی اثاثوں کی تلاش کیلئے براڈ شیٹ فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھی تاہم کسی ایک بھی پاکستانی کے اثاثے نہیں ملے، لندن ہائی کورٹ کی فنانشل ڈویژن نے 17 دسمبر کو آخری حکم جاری کیا تھا جس میں نیب کے سابق کلائنٹ کو 30 دسمبر تک ادائیگی کے احکامات جاری کی گئے تھے۔

تاہم نیب کو 24 دسمبر تک اپیل کا حق حاصل تھا مگر ان کے وکیل نے بتایا کہ ایسا کرنے سے مزید معاشی بوجھ بڑھے گا جن میں براڈ شیٹ کو ادائیگی کی رقم کیساتھ ساتھ نیب وکلا کو رقوم کی ادائیگی، جرمانے اور سود کی رقم بھی شامل ہوگی۔