نیسلے کے دودھ سے مبینہ طور پر بچی کی موت،عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا


نیسلے دنیا کی بہت بڑی کمپنی ہے۔ جولائی 2018 میں اس کمپنی کی پراڈکٹ لیکٹوجن کے استعمال سے مبینہ طور پر ایک بچی کی جان چلی گئی تھی۔ بچی کے والد عثمان بھٹی نے نیسلے کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا۔

ان کی درخواست پر اگلے سال 2019 میں جا کر تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ اس کیس کے وکیل بیرسٹر حسان خان نیازی ہیں۔ انہوں نے سیاست ڈاٹ پی کے کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ تفصیل بتائی۔

حسان نیازی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کیس کے مدعی عثمان بھٹی کے مطابق ان کے گھر پر دو سے تین بار فائرنگ بھی کرائی گئی تاکہ وہ اس کیس سے پیچھے ہٹ جائیں۔

بیرسٹر حسان نیازی کے مطابق پولیس نے جو رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے اس میں نیسلے کو کلین چٹ دے دی گئی جب کہ پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ کے مطابق بچی کے پیٹ سے پوائزن نکلا تھا۔ وہی پوائزن لیکٹوجین پاؤڈر میں بھی پایا گیا تھا۔

اب اس کیس میں بہت بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ آج لاہور کی عدالت کے مجسٹریٹ نے نیسلے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو 9 مارچ کو طلب کر لیا ہے۔ اگرچہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ انصاف کا ترازو مجرم اور مدعی میں سے کس کے حق میں جھکتا ہے مگر نیسلے جیسی بڑی کمپنی کے ایم ڈی کی طلبی بھی بہت بڑا واقعہ ہے جس سے عثمان بھٹی اور بیرسٹر حسان کے موقف کی جیت صاف دیکھی جا سکتی ہے۔


ناظرین اس طرح کی خبریں آپ کو مین سٹریم میڈیا پر دکھائی نہیں دیں گی کیونکہ ایسا کرنے پر ان کو اشتہار ملنا بند ہو جائیں گے۔ دھندہ ہے پر گندہ ہے۔ پاکستان میں عموماً انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی تاہم سیاست ڈاٹ پی کے کا یہ پلیٹ فارم غریبوں کی آواز ضرور بنتا رہے گا۔