ن لیگ جارحانہ،پی پی سے ہتھ ہولااور فضل الرحمن کیساتھ بیک ڈور رابطوں کا فیصلہ حکومت نے پی ڈی ایم جلسے ناکام بنانے کیلئے کثیرالجہتی حکمت عملی مرتب کرلی


اسلام آباد ( آن لائن) حکومت نے پی ڈی ایم جلسوں سے نمٹنے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے خلاف انتہائی جارحانہ،پیپلز پارٹی کے ساتھ ہتھ ہولاجبکہ اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں سے کوئی رابطہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں پارٹی کی سینئر قائدین نے شرکت کی ،اجلاس میںیک نکاتی ایجنڈے پر مشتمل پی ڈی ایم تحریک اور جلسوں پر تفصیلی غوروغوض کیا گیا ۔ سیاسی اجلاس میں اپوزیشن سے نمٹنے کیلیے کثیر الجہتی حکمت عملی مرتب کر لی

گئی ہے ۔حکومت نے پی ڈی ایم کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے مختلف آپشنز اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق مسلم لیگ (ن )کے خلاف سخت رویہ اور اقدامات کئے جائیں گے اور احتساب کے حوالے سے بھی ن لیگ حکومت کے سیاسی تیروں کا نشانہ بنے گی ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہتھ ہولا رکھا جائیگا اورپی پی کی قیادت پرصرف رسمی تنقید کی جائے گی ،پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کیلئے تمام درواز ے کھلیں رہیں گے اس حوالے سے وزراء کو پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطو ں کیلئے ٹاسک سونپ دیا گیا ہے ۔اجلاس میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بھیتفصیلی بات چیت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے دیگر سینئر رہنمائوں کے ساتھ بیک ڈور رابطے کئے جائیں گے اور جائزمطالبات فوری تسلیم کرتے ہوئے ان پر من وعن عملدرآ مدکیا جائیگا تاہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جے یو آئی ف اپنے مطالبات پر مذاکرات پررضامند نہ ہوئی تو ان کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی طرح سخت اور جارحانہ ایکشن لیا جائیگا ،اجلاس میں اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں سے کسی قسم کا کوئی رابطہ اور بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاسمیں اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور عمران خان نے کہا کہ جلسوں میں رکاوٹ ڈال کر اپوزیشن کو ہیرو نہیں بننے دیں گے ،جلسے وجلوس اپوزیشن کا حق ہے اور آئین و قانون کے دائرہ میں رہ کر جو مرضی کرلیں لیکن قانون کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائیگا ، عمران خا ن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے پہلے بھی جلسے کئے تھے اور اب بھی کر کے دیکھ لیں یہ عوام کے ساتھ ایکسپوزہوں گے ۔