واٹس ایپ کو بائے بائے، پرائیویسی پالیسی پر ٹیلی گرام نے ٹرول کردیا


واٹس ایپ کو بائے بائے,پرائیوسی پالیسی پر ٹیلی گرام نے ٹرول کردیا

واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد دنیا بھر کے صارفین متبادل پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔ واٹس ایپ کی ناقص پالیسی کے باعث صارفین ٹیلی گرام اور سگنل سمیت دیگر مسیجنگ اپیلی کیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔

متعدد عالمی شخصیات نے اپنے فالورز کو سگنل استعمال کرنے کا مشورہ دیا,ٹیلسا کے بانی ایلون مسک اور صحافی ایڈورڈ سنوڈن بھی شامل ہیں۔

سگنل نے ابھی تک واٹس ایپ کی پالیسی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا مگر ٹیلی گرام نے واٹس ایپ کے ممکنہ زوال پر اسے ٹرول کرنے کیلئے دنیا بھر میں معروف ’میم‘ شیئر کی ہے اور پھر ایک صارف کو واٹس ایپ ’ان انسٹال‘ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

گوگل پلے اسٹور اور ایپل کے ایپ اسٹور سے نان پرافٹ مسیجنگ ایپ ’سگنل‘ کی ڈاون لوڈنگ میں تیزی آگئی جبکہ کئی دنوں سے سگنل پر اکاؤنٹس کی گنجائش ختم ہونے پر نئے صارفین کو مشکلات کا سامنا بھی ہے مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔

واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا نہ صرف کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کرے گا بلکہ اسے فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔ صارفین کو نئی پالیسی قبول کرنے کے لیے آٹھ فروری تک کا وقت دیا ہے تاکہ وہ سروس کا استعمال جاری رکھ سکیں۔

واٹس ایپ نے نئی پرائیویسی پالیسی میں کہا ہے کہ جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پروڈکٹس پر انحصار کرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق موبائل کی معلومات بھی حاصل کر رہا ہے جن میں بیٹری لیول، ایپ ورژن، موبائل نمبر، موبائل آپریٹر اور آئی پی ایڈریس سمیت دوسری معلومات شامل ہیں۔

نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف اپنے واٹس ایپ اکاونٹ کو ڈیلیٹ کیے بغیر وٹس ایپ صرف موبائل سے ڈیلیٹ کرتا ہے تو اس کی معلومات محفوظ رہیں گی۔

نئی پرائیویسی پالیسی میں واضح طور کہا گیا ہے کہ انتظامیہ صارفین کا ڈیٹا اسٹور کرنے کے لیے فیس بک کا عالمی انفرا سٹرکچر اور اس کے ڈیٹا سینٹرز استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں امریکہ میں موجود ڈیٹا سینٹر بھی شامل ہے۔

واٹس ایپ نے اپنی پرانی پرائیویسی پالیسی میں صارفین کی پرائیویسی کی حفاظت کو اپنے ڈی این اے کا حصہ بتایا تھا۔ نئی پالیسی میں یہ چیز اب شامل نہیں ہوگی تاہم واٹس ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکریپٹڈ کو برقرار رکھے گا۔ اس کے تحت نہ تو صارفین کے پیغامات کہیں اور دیکھے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔