ورزش سے دور نوجوانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)موجودہ دور میں نوجوانوں میں جسمانی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے انہیں بے شمار طبی خطرات کا سامنا ہے، اب حال ہی میں ایک اور تشویش ناک تحقیق سامنے آئی ہے۔بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق سے علم ہوا کہ موٹاپا اور جسمانی فٹنس میں کمی جوان افراد میں ہارٹ فیلیئر اور فالج جیسے جان لیوا امراض کی وجہ بن رہی ہے۔ماہرین کے مطابق زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا فالج اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔اس تحقیق میں 12 لاکھ 58 ہزار سے زیادہ مردوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی

گئی تھی جن کی اوسط عمر 18 سال تھی۔ ان مردوں کا ڈیٹا سوئیڈن میں ملٹری سروس کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا اور پھر ان کی مانیٹرنگ 20 سال تک جاری رکھی گئی تھی۔ان افراد میں زیادہ جسمانی وزن والے افراد کی شرح 1971 سے 1995 کے دوران 6.6 سے 11.2 فیصد کے درمیان تھی جبکہ موٹاپے کے شکار افراد کی شرح ایک فیصد سے بڑھ کر 2.6 فیصد تک پہنچ گئی۔اس عرصے میں فٹنس لیول کی شرح میں بھی کچھ حد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔محققین کا کہنا تھا کہ زیادہ جسمانی وزن، موٹاپا اور جسمانی فٹنس میں کمی سے ہارٹ فیلئیر کی شرح میں اضافے کی وضاحت ہوتی ہے اور اسی کے نتیجے میں فالج کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نتائج میں یہ بات خوش آئند تھی کہ ان جوان مردوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ دل کی شریانوں سے جڑے مسائل سے ہلاکتوں کی شرح میں بھی کمی آئی۔ماہرین کا کہنا تھا

کہ جسمانی وزن میں اضافہ اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری ہارٹ فیلیئر اور فالج جیسے امراض کا باعث بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ 18 سال کی عمر میں جسمانی فٹنس کا خیال نہ رکھنا اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں نہ رکھنا دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ اس کی روک تھام کے لیے جسمانی طور پر زیادہ سرگرم رہنا، لڑکپن سے اچھی غذائی عادات اور کم وقت بیٹھ کر گزارنا ضروری ہے۔