وزارت ریلوے کاچارج سنبھالتے ہی اعظم سواتی نے ہاتھ کھڑے کردئیے؟


ریلوے نہیں چلاسکتے، آؤٹ سورس یا بند کرنا پڑے گا،ریلوے کی وزارت سنبھالتے ہی اعظم سواتی نے ہاتھ کھڑے کردئیے

اسٹیل ملز کی طرح ملک کے ریلوے نظام کا بھی برا ہے،وزیر ریلوے اعظم سواتی نے مایوسی کا اظہار کردیا، نیوز کانفرنس سے گفتگو میں کہا کہ اگر یہی نظام چلتا رہا تو پاکستان اسٹیل ملز کی طرح ریلوے کو بھی بند کرنا پڑجائے گا، بحیثیت وزیر کہہ رہا ہوں، ریلوے کو ہم نہیں چلاسکتے۔

وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 46 برس بعد ٹرین کا سفر کیا ہے۔میں نے 1974 میں آخری بار ریلوے سے سفر کیا تھا اور اس کے بعد اب بطور مسافر سفر کیا۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ایسا ہی رہا تو اسٹیل ملز کی طرح ریلوے کو بند کرنا پڑے گا۔ جو کام ہم خود نہیں کرسکتے وہ آؤٹ سورس کردیں گے،شیخ رشید اپنے دور میں کافی چیزیں پائپ لائن میں ڈال گئے۔ ان کی طرح کام نہیں کرسکتا مگر کوشش ضرور کروں گا۔

پریس کانفرنس میں اپوزیشن کے استعفوں بارے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہہ اگر اپوزیشن استعفی دیدیے تو ختم دلواؤں گا،سینیٹ میں مٹن اور بریانی کی دیگیں تقسیم کروں گا،اور ان کے استعفی فوری منظور کروا لوں گا۔

ریلوے یونین کے رہنما نے اعظم سواتی کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر کو محکمے کے معاملات کاعلم ہی نہیں، اس وقت ریلوے اسٹیل ملز کی طرح بیٹھی ہوئی نہیں ہے بلکہ کما کر دے رہی ہے۔ ریلوے میں ملازمین کی قلت ہے۔ ایک آدمی چالیس لوگوں کا کام کرتا ہے۔